سنگاپور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر بچے کی پیدائش پر والدین کو 17 سال تک ڈیڑھ کروڑ کی مالی امداد دی جائے گی
یہ بڑا فیصلہ کم ہوتی شرح پیدائش میں اضافے کے لئے کیا گیا ہے جو خطرناک حد تک کمی کے بعد 0.87 تک پہنچ چکی ہے
اسلام آباد:پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سخت پریشان ہیں ا ور آئے روز آبادی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے مختلف اقدامات کرتے رہتے ہیں لیکن یقین کریں دنیا میں بعض ممالک ایسے بھی ہیں کہ وہاں شرح پیدائش انتہائی کم ہے اور وہ والدین کے لئے کئی ایک سہولیات متعارف کرا رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں.جی ہاں مشرقی ایشیا کا ایک ملک ایسا بھی ہے جہاں آبادی روز بروز کم ہونے کے باعث حکومت سخت پریشان ہے اور والدین کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیت دی جاتی ہے.
سنگاپور وہ ملک ہے جس نے شرح پیدائش میںاضافے کے لئے ہر بچے کی پیدائش سے لے کر 17 سال کی عمر تک بچے کے والدین کو ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے.
اس مہنگائی کے دور میں دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں شادی کرنا ہی مشکل ہوتا جارہا ہے اور شادی کے بعد اولاد کی پرورش کرنے کا خیال لوگوں کو پریشان کر دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے آئے روز آبادی کنٹرول کرنے کے لئے مہم چلائی جاتی ہے.
سنگاپور کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہاں پیدا ہونے والے ہر بچے کے 17 سال کی عمر تک پہنچنے تک 55 ہزار 48 ڈالرز کی مالی معاونت والدین کو فراہم کی جائے گی۔سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کی جانب سے یہ اعلان گزشتہ دنوں کیا گیا جس کا بنیادی مقصد اس ملک میں شرح پیدائش میں آنے والی کمی کے مسئلے پر قابو پانا ہے۔
وزیراعظم لارنس وونگ کے مطابق ابھی بھی سنگاپور میں ہر بچے کی پیدائش پر مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے اور اس کا انحصار کسی خاندان میں بچوں کی پیدائش کی ترتیب پر ہوتا ہے مگر بیشتر افراد کے لیے اسے سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اس عمل کو سادہ بنانے کے لیے سنگاپوری شہریت رکھنے والے ہر بچے کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔یہ پیکج 5 حصوں میں فراہم کیا جائے گا۔
ایک بچے کی پیدائش کے بعد 12 مہینوں کے دوران 7880 ڈالرز (21 لاکھ 58 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) والدین کو دیے جائیں گے۔
دوسرے مرحلے میں 69 لاکھ 85 ہزار روپے سے زائد 16 برسوں کے دوران فراہم کیے جائیں گے، اس مرحلے میں ہر سال 4 لاکھ 36 ہزار پاکستانی روپے سے زائد دیے جائیں گے۔
تیسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے چائلڈ ڈویلپمنٹ اکاؤنٹ کی مد میں 10 لاکھ 90 ہزار پاکستانی روپے سے زائد دیے جائیں گے۔
چوتھے مرحلے میں ہر بچے کو چائلڈ ڈویلمنٹ اکاؤنٹ میں 16 سال کی عمر پر پہنچنے پر 10 لاکھ 90 ہزار پاکستانی روپے سے زائد فراہم کیے جائیں گے۔
آخری مرحلے میں جب بچے کی عمر 17 سال ہوگئی تو اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کے لیے 21 لاکھ 76 ہزار پاکستانی روپے سے زائد دیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ سنگاپور میں فی خاتون بچے کی پیدائش کی شرح ریکارڈ کمی کے بعد 0.87 تک پہنچ چکی ہے جبکہ عالمی سطح پر 2.1 کو نارمل قرار دیا جاتا ہے۔



