خود کو وقت دیں زندگی کو خوبصورت بنائیں‌

دوسروں‌کے ساتھ ساتھ اپنے لئے وقت نکالئے ورنہ اس کا کام گزرنا ہے، بے فیض گزر جائیگا
روزانہ کی بنیاد پرکچھ وقت اپنے لئے نکالیں اور وہ کام کریں جس سے آپ کو خوشی محسوس ہوتی ہو

اسلام آباد:اپنے جسم پر سب سے پہلا حق آپ کا ہے اگر آپ خود کو وقت نہیں‌دیں گے تو دوسروں‌کے کام بھی نہیں آسکیں گے .اہل ِ خانہ کی دیکھ بھال کرنا، کھانا پکانا، کپڑے دھونا، استری کرنا…. کاموں کی فہرست لمبی ہے۔ بہت سی خواتین کی زندگی ان کاموں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو فراموش کر دیا ہے۔ اپنی ذات پر توجہ نہ دینے سے انسان اپنی اہمیت کو بھی بھول جاتا ہے۔ اسلئے زندگی کو خوشگوار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو وقت دیں۔
خواتین چاہیں خاتونِ خانہ ہوں یا ملازمت پیشہ، اپنے معمولات تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ روزانہ جلدی بیدار ہونا اور رات گئے تک کام میں مصروف رہنا ان کی روزمرہ کی کہانی ہوتی ہے۔ بچے، شوہر ساس سسر کی دیکھ بھال کرنا، کھانا پکانا، کپڑے دھونا، استری کرنا…. کاموں کی فہرست لمبی ہے۔ بہت سی خواتین کی زندگی ان کاموں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو فراموش کر دیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کچھ وقت اپنے لئے نکالیں اور وہ کام کریں جس سے آپ کو خوشی محسوس ہوتی ہو۔
زندگی میں توازن پیدا کریں
خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی ذات کو بھول جاتی ہیں۔ بلاشبہ خواتین کے لئے ان کی گھریلو ذمہ داریاں اولین حیثیت رکھتی ہیں لیکن اپنی ذات کو بھول جانا بھی درست نہیں ہے۔ گھریلو ذمہ داریاں اور اپنی ذات کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ خود کی دیکھ بھال اور ذاتی مشاغل کے لئے وقت نکالیں جو آپ کو خوشی دیں۔ اپنی ضروریات، حدود اور اہداف کے بارے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کھل کر بات کریں۔ کاموں کی فہرست بنائیں اور کاموں کی نوعیت کے مطابق گھر والوں میں انہیں تقسیم کریں۔ اس طرح آپ پر کام کا بوجھ کم ہوگا۔ یاد رکھیں، کوئی بھی شخص پرفیکٹ نہیں بن سکتا، اس لئے اپنے کام سے مطمئن رہیں اور پُرسکون رہیں، زندگی اچھی لگے گی۔
کوئی بھی کام منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا جائے تو وہ کام وقت پر اور پُرسکون انداز میں ہوتا ہے۔ اس اصول کو اپناتے ہوئے خواتین دن بھر کا کچھ وقت اپنے لئے نکالنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں اور اس وقت میں وہ اپنی ذات پر توجہ دیں۔ مثال کے طور پورے ہفتے کے لئے کھانے کا مینو تیار کر لیں اور وقت سے پہلے اجزاء کی خریداری کر لیں تو یہ بہت آسان ہوسکتا ہے۔
گھر کی صاف صفائی وقت طلب کام ہے۔ اس کام میں خواتین تھک بھی جاتی ہیں۔ آپ صفائی کا ایک شیڈول بنائیں، اس سے آپ کو اس بھاری بھرکم کام کو جلدی اور مؤثر طریقے سے مکمل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لئے گھر کی صاف صفائی کے متعلق فہرست بنا لیں اور فیصلہ کریں کہ کس کمرے یا جگہ کی صفائی کب کرنی ہے۔ منتخب کریں کہ کون سے دن اور اوقات کن کاموں کے لئے ہوں گے، اور ضرورت کے مطابق اس کام میں گھر والوں کی مدد مانگنے سے نہ ہچکچائیں۔
اپنے اور گھر والوں کے کپڑے دھونا وقت اور محنت طلب کام ہے۔ اس صورت میں خواتین کپڑوں کا ڈھیر جمع ہونے ہرگز نہ دیں۔ بہتر یہ ہے کہ روزانہ کپڑا دھوئیں، اس سے وقت اور توانائی کم خرچ ہوتی ہے۔
اپنے دن کی شروعات صبح سویرے سے کریں۔ جلدی جاگنے سے آپ کو سانس لینے کا وقت ملتا ہے اور آپ کو دن کے لئے منظم ہونے دیتا ہے۔ وہ اضافی گھنٹہ یا چائے یا کافی کا ایک پُرسکون کپ پورا دن بدل سکتا ہے۔ اس کے لئے جلدی سونے اور جلدی جاگنے کی عادت اپنائیں۔
رات کو اگلے دن کی پلاننگ کرنے سے بے ترتیبی سے بچا جاسکتا ہے۔ سونے سے پہلے کچن صاف کرکے سوئیں تاکہ اگلے دن کچن میں کام کا فوراً آغاز ہوسکے، اگر ممکن ہو تو بچوں کے لنچ باکس کی تیاری رات میں ہی کر لی جائے۔ اس سے صبح کی ہڑبڑاہٹ سے بچنا ممکن ہوسکتا ہے۔
گھر کے کاموں کو منظم کرنے اور گھر والوں کی مدد سے بچ جانے والے وقت کو اپنی ذات پر خرچ کریں۔ اس دوران اپنے پسندیدہ کام انجام دیں۔ سیلف کیئر پر توجہ دیں۔ اسکن کیئر روٹین کی اہمیت سمجھیں۔ ایسی سرگرمیوں میں مشغول رہیں جو آپ کو متاثر کرتی ہیں اور آپ کو خوشی دیتی ہیں۔ وہ چیزیں تلاش کریں جن سے آپ لطف اندوز ہوں اور انہیں اپنے شیڈول میں شامل کریں۔ چاہیں تو کوئی میگزین/ کتاب پڑھیں، میوزک سنیں، کوئی ٹی وی پروگرام دیکھیں، کوکنگ میں کوئی نئی ڈش ٹرائی کریں یا پارلر میں میک اوور کروائیں، اپنی پیاری سہیلی سے ملنے جائیں اور کچھ وقت ساتھ میں گزاریں، ان سے کی گئی خوش گپیوں سے ذہن تروتازہ ہوجائے گا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بس وہ کیجئے جو آپ کرنا چاہتی ہیں۔ آپ اس مشورے پر عمل کرکے دیکھئے، آپ اپنے اندر ایک مثبت تبدیلی محسوس کریں گی۔ فارغ وقت میں اپنی ذات پر توجہ دینے سے آپ میں روزمرہ کے باقی کام انجام دینے کے لئے نئی توانائی، نئی امنگ اور نیا جذبہ پیدا ہوگا۔ جب انسان اندر سے خوش ہوتا ہے تو اسے زندگی بھی خوشگوار محسوس ہوتی ہے۔