دن دو بجے شروع ہونے والے مذاکرات رات اڑھائی بجے تک جاری رہے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا
مذاکرات میں بنیادی اختلافات دور ہوئے نہ نئے مذاکراتی دور کی تاریخ طے ہوئی ،لانگ مارچ بدستور برقرار
جب تک اپوزیشن رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جاتی، احتجاج مؤخر نہیں ہوگا،محمود اچکزئی
لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا،انتشار کو قانون کی طاقت سے روکیںگے
کے پی کے کی حکومت دہشت گردی کیخلاف آپریشن میں فورسز کا ساتھ دینے سے انکاری ہے، رانا ثنائ اللہ
دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر معاہدے سے انکار کردیا، شیری رحمان

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہنے کے باوجود فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، ذرائع کے مطابق چار بار مذاکرات کا ڈرافٹ تبدیل کیا گیا لیکن پھر بھی کوئی مثبت نتیجہ نہ نکل سکا اور پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا دوسرا دور بھی بے نتیجہ رہا۔
مذاکرات میں بنیادی اختلافات دور نہیں ہوسکے اور نئے مذاکراتی دور کی تاریخ بھی طے نہیں ہوئی۔حکومت کے مطابق بڑا تنازع دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور خیبر پختونخوا حکومت کے کردار سے متعلق تھا۔پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات، لانگ مارچ اور دیگر سیاسی مطالبات بھی مذاکرات کا حصہ تھے۔پی ٹی آئی نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد 4 اکتوبر کا اسلام آباد لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان برقرار رکھا۔جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں لانگ مارچ کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب صحافیوں سے گفتگو میں ڈیڈ لاک کی تصدیق کی ہے۔
قومی اسمبلی میںقائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا مؤقف تھا کہ جب تک اپوزیشن رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جاتی، احتجاج مؤخر نہیں ہوگا.
مذاکرات کے بعد مشیر وزیراعظم اور حکومتی مذاکرات وفد میں شامل رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کو تیار نہیں، صوبائی حکومت دہشتگردی کے حوالےسے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے، کے پی حکومت دہشت گردی کیخلاف آپریشن میں فورسز کا ساتھ دینےاور کردار ادا کرنے پر یقین دہانی سے انکاری ہے۔رانا ثنا نے کہا دو تین دفعہ ڈرافٹ میں تبدیلی کی لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تعاون کرنے پر تیار نہیں، دہشتگردی کیخلاف تعان نہ کرنے کی بات کسی طور پر قابل قبول نہیں،اس وجہ سے معاہدہ نہیں ہوسکا۔رانا ثنا نے کہا عمران خان کی ملاقات، علاج معالجے سے متعلق باتیں چھوٹی باتیں تھیں، انہیں یقین دلایا تھاکہ قانون اور جیل ضابطوں کے مطابق پہلے بھی عمل ہورہا ہے اور اب بھی عمل ہوگا، اگر آپ ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے تو رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ رانا ثنا نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا، کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے ان کے خدشات سنے ہیں، 4 مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا، دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر انہوں نے معاہدے سے انکار کردیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی اور اپوزیشن وفد میں شامل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج مذاکرات کا سیشن ختم ہوگیا اور مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے، فریقین نے کل کسی سیشن کی ضرورت پر اتفاق نہیں کیا، ایک دوسرے کے ساتھ کچھ چیزوں کا تبادلہ کریں گے، اگر ضرورت پڑی تو شاید سیشن ہوجائے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات کو کامیاب ہونا چاہیے تھا، ہمارا لانگ مارچ انٹیکٹ ہے، لانگ مارچ ہوگا، لانگ مارچ کی آڑ میں کوئی ایسا اقدام نہیں ہوناچاہیے جس سے صوبہ کی عوام میں تناؤ پیدا ہو، لانگ مارچ ہمارا حق ہے، سب سے کہوں گا کہ لانگ مارچ کو نہ روکیں۔انہوں نے کہا کسی چیز کو آخری نہیں کہنا چاہیے، سیاست میں کوئی چیز آخری نہیں ہوتی، لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں، فریقین میں مذاکرات کے اگلے مرحلے پر اتفاق نہیں ہوا۔
راجہ ناصر عباس نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے، چھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں لیکن نتائج تک نہیں پہنچ سکے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، خان صاحب کے ذاتی معالج تک رسائی کے معاملے پر ڈیڈ لاک ہے، ہماری کوشش تھی کسی نتیجے پر پہنچ سکیں لیکن ڈیڈ لاک برقرار ہے۔علامہ ناصر عباس کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشتگردی کے معاملے پر نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ان کے تحفظات تھے، جن علاقوں میں آئی ڈی پیز ہیں وہاں آپریشن کے حوالے سے بھی تحفظات تھے۔ مذاکرات کے بعد حکومتی وفد کی جانب سے کہا گیا کہ اس وقت ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ عمران خان سے ملاقات کروادیں، انہوں نے کہا بہنوں اور وکلاء کی ملاقات شروع ہوجائے گی۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، ہمارا خیال تھا کہ ہم آگے بڑھ سکیں گے جس پر دونوں کا اتفاق رائے ہو.
حکومت اور اپوزیشن کے درمیا ن مذاکرات بے نتیجہ ختم




