ملزم ذیشان نے مقتولہ حنا جاوید کا ریپ کرنے کی کوشش کی مزاحمت پر گلہ گھونٹ کر کام تمام کر دیا
ملزم نے حنا۔ جاوید کو قتل کرنے کے بعد لاش کے ساتھ دو مرتبہ ر۔یپ کیا جو ڈی این اے رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے
حنا جاوید نے اپنی بہن کو بتایا تھا کہ ’اس کا شوہر حقوق زوجیت ادا نہیں کر رہا، پولیس مقتولہ کے خاوند کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے بھائی کا موقف
اسلام آباد(محمدرضوان ملک)راولپنڈی کی 45 سالہ خاتون حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے مقدمے میں نامزد مقتولہ کے شوہر ڈاکٹر فیصل اصغر کو بے گناہ قرار دیا ہے جبکہ دیگر دو گرفتار ملزمان کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے جن میں گھریلو ملازم بھی شامل ہے.
یاد رہے کہ 20 اگست کی صبح حنا جاوید کی بر۔ہنہ لا۔ش اُن کے گھر کے باتھ روم سے اس حالت میں برآمد ہوئی تھی کہ اُن کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے،حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ حنا کے بھائی فہد ۔جاوید کی مدعیت میں راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا تھا اور اس میں حنا جاوید کے شوہر، سُسر اور ایک گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا تھا۔پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز کے حکم پر اس مقدمے کی تفتیش کے لیے اعلی افسران پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم بنائی گئی تھی جس کے انچارج سی سی ڈی کے سربراہ سہیل۔ ظفر ۔چٹھہ ہیں ؛؛۔ اس پیش رفت پر سی ۔سی۔ ڈی انچارج سہیل ۔ظفر۔ چٹھہ نے بتایا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے اس مقدمے سے متعلق تمام شواہد کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس مقدمے کی تفتیش کی ہے۔ پولیس کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد اور ڈی۔ این ۔اے رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے اس واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کی گئی جبکہ ملزمان سے متعدد بار راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جاکر کئی گھنٹے تفتیش بھی کی گئی۔سہیل ظفر چٹھہ نے دعویٰ کیا کہ شواہد کے مطابق ملزم ذیشان کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔ ملزم ذیشان نے حنا جاوید کے ساتھ ر۔یپ۔ کرنے کی کوشش کی تو مقتولہ کی طرف سے مزاحمت کی گئی اور پوسٹ۔ مارٹم کے دوران مقتولہ کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں میں جو جلد کے ذرات ملے تھے وہ بھی ذیشان کے ساتھ میچ کر گئے ہیں۔
سی سی ڈی سربراہ نے مزید دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جب حنا جاوید نے مزاحمت کی تو ملزم ذیشان نے بیڈ پر بچھائی گئی چادر حنا جاوید کے گلے میں ڈال کر ان کا گلہ گھو۔نٹ دیا اور ساتھ ساتھ مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بھی بناتا رہا۔ ملزم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے حنا۔ جاوید کو قتل کرنے کے بعد ان کے ساتھ دو مرتبہ ر۔یپ۔ کیا جو کہ ڈی این اے رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ملزم ذیشان پہلے سے جرائم یافتہ ہے اور اس پر دو تین مقدمات میں چالان بھی ہو چکا ہے۔سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا ہے کہ بستر کی جس چادر سے ملزم ذیشان نے حنا جاوید کا گلہ گھو۔نٹا تھا اس پر مقتولہ کے شوہر ڈاکٹر فیصل اصغر کی انگلیوں کے نشانات بھی پائے گئے تھے جبکہ کمرے کے دروازے کے ہینڈل پر بھی ڈاکٹر فیصل کی انگلیوں کے نشانات تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انگلیوں کے نشانات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ ملزم فیصل اصغر حنا جاوید کے قتل میں ملوث ہے ؛؛۔
سہیل ۔ظفر۔ چٹھہ کے بقول تفتیش کے دوران ملزم فیصل اصغر کی سابقہ بیوی سے بھی رابطہ کیا گیا۔ سابقہ اہلیہ کا کہنا تھا کہ ’فیصل اصغر نے تو کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی اور جہاں پاچ یا پانچ سے زیادہ بندے جمع ہوتے تھے تو وہ خوف کے مارے وہاں سے چلے جاتے تھے۔‘
مقتولہ نے اپنی بہن سے اپنے شوہر کی طرف سے کسی تشدد کا ذکر نہیں کیا جس کے ساتھ اسکا واٹس ایپ پر اکثر رابطہ رہتا تھا ۔ البتہ حنا جاوید نے بہن سے یہ بات کی تھی کہ ’اس کا شوہر حقوق زوجیت ادا نہیں کر رہا۔‘
سہیل ظفر چٹھہ نے بتایا کہ تفتیشی ٹیم نے اپنی تفتیش مکمل کرکے اس کی رپورٹ ۔وزیر ۔اعلیٰ ۔مریم ۔نواز کو بھجوا دی ہے۔ دوسری جانب حنا جاوید کے خاندان کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حنا جاوید قتل کے مقدمے کی تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پولیس اپنی مرضی کا چالان جمع کروانے کی کوشش کر رہی ہے ؛؛۔ حنا ۔جاوید کے بھائی نے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کا سارا ملبہ گھریلو ملازم پر ڈالنے اور شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر کے مقتولہ کے خاوند کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کا ملزمان کے ساتھ شروع سے ہی رویہ دوستانہ رہا ہے۔؛؛
تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے مقتولہ کے شوہر ڈاکٹر فیصل اصغر کو بے گناہ قرار دینے اور گھریلو ملازم ذیشان کو مرکزی ملزم قرار دینے پر مقتولہ کے اہلِ خانہ نے تحقیقات پر اعتراضات اٹھائے اور شواہد سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا ہے۔ یہ الزامات متنازع ہیں اور حتمی عدالتی فیصلے کے بعد ہی صورت حال واضح ہو گی.




