باپ کے سامنے کلہاڑی سے بیٹی کے ٹکڑے

بچوں کا آسٹریلیا میں‌پڑھانے کی خواہش پر کلہاڑی سے ساجدہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )ساجدہ آسٹریلیا میں‌ پڑھ لکھ کر بالآخر آسٹریلیا میں کام کرنے لگی تھیں۔ وہ اپنے تینوں بچوں کو وہیں پر پڑھانا چاہتی تھیں لیکن سسرال والوں کے دباؤ پر وہ پنجاب کے ضلع سرگودھا آگئیں۔ جہاں وہ دن بھی آیا جب اسے اپنے والد کے سامنے کلہاڑی کے وار کر کے مار دیا گیا۔۔
یہ کہانی ہے ساجدہ تسنیم کی جنہوں نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے شعبے میں کام شروع کیا۔ 2011 میں ان کی شادی ایوب احمد سے ہوئی جو خود بھی انجینئر تھے۔ شادی کے چند ماہ بعد دونوں کو سعودی عرب میں ملازمت کے مواقع ملے اور وہ وہاں منتقل ہوگئے۔ سعودی عرب میں ان کے ہاں پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔
ساجدہ نے اپنے پیشہ ورانہ مستقبل کو مزید بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھی۔ 2013 میں انہیں آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں ملازمت کا موقع ملا تو وہ شوہر اور بیٹے کے ساتھ وہاں منتقل ہوگئیں۔ بعد میں ان کے ہاں دو بیٹیوں کی پیدائش ہوئی۔ یوں ان کے تین بچے ہوگئے۔ آسٹریلیا میں ساجدہ نے ملازمت کے ساتھ مزید کورسز بھی کیے اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگیں۔ وہ پاکستانی خواتین کی مدد کے لیے بھی سرگرم تھیں اور انہوں نے فیس بک پر ایک گروپ قائم کیا تھا۔
تاہم وقت کے ساتھ ساجدہ اور ان کے شوہر کے حالات بدلنے لگے۔ رپورٹس کے مطابق ایوب احمد آسٹریلیا میں اپنی ملازمت برقرار نہ رکھ سکے۔ کچھ عرصہ آن لائن کام کرنے کے بعد انہیں بحرین میں ملازمت مل گئی اور وہ وہاں منتقل ہوگئے، جبکہ ساجدہ اپنے بچوں کے ساتھ آسٹریلیا میں رہیں۔ اسی دوران ساجدہ کے شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے ان پر پاکستان واپس آنے کے لیے دباؤ بڑھنے لگا۔ سسرال والے چاہتے تھے کہ بچے پاکستان میں اپنے دادا دادی کے قریب رہیں جبکہ ساجدہ بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے آسٹریلیا میں رہنا چاہتی تھیں۔
ساجدہ کے والد شیر محمد خان کے مطابق ان کی بیٹی کو شوہر نے پاکستان آنے پر آمادہ کیا تھا۔ ساجدہ بچوں سمیت پاکستان پہنچیں تو ان کے سسر مختار احمد نے مبینہ طور پر ان کا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیا۔ اس کے بعد بچوں کی پرورش، تعلیم اور آسٹریلیا واپسی کے معاملے پر اختلافات بڑھنے لگے۔ رپورٹس کے مطابق سسرال والوں کو خدشہ تھا کہ آسٹریلیا میں رہنے سے بچوں کی مذہبی شناخت متاثر ہوسکتی ہے جبکہ ساجدہ انہیں وہیں تعلیم دلوانا چاہتی تھیں۔
پھر 11 جون 2022 کو پنجاب کے شہر سرگودھا میں وہ واقعہ پیش آیا جس نے ساجدہ کی زندگی ختم کردی۔ ساجدہ کے والد شیر محمد خان اپنی بیٹی سے ملنے اس کے سسرال پہنچے۔ انہوں نے گھر میں شور اور گا۔لی گلوچ کی آوازیں سنیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کو دیے گئے بیان میں شیر محمد خان نے بتایا کہ جب وہ اوپر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ساجدہ کے سسر مختار احمد نے ان کے منہ میں کپڑا ٹھونس رکھا تھا اور وہ اس پر کلہاڑی سے حملہ کر رہا تھا۔ شیر محمد خان کے مطابق انہیں اپنی جان کا خوف بھی تھا اور انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے مداخلت کی تو انہیں بھی قتل کردیا جائے گا۔
شیر محمد خان نے بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھتے رہے۔ کلہا۔ڑی کے وار سے ساجدہ کی موت ہوگئی جبکہ ملزم وہاں سے فرار ہوگیا۔ بعد ازاں پولیس نے مختار احمد کو گرفتار کرلیا۔ اس مقدمے میں مئی 2025 میں سرگودھا کی ایک سیشن عدالت نے مختار احمد کو ساجدہ تسنیم کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے مو۔۔ت سنائی۔ عدالت نے مقتولہ کے ورثا کو سات لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ مقدمے میں نامزد ساجدہ کی ساس غلام فاطمہ اور دو دیگر ملزمان کو شواہد ناکافی ہونے پر بری کردیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد مختار احمد نے صحافیوں سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ اس نے غصے میں آکر ساجدہ کو قتل کیا تھا۔
ساجدہ کا قتل 11جون 2022 کو ہوا تھا. قتل کے مقدمے میں دیگر ملزمان کے ساتھ ساجدہ کے شوہر ایوب احمد،ساس فاطمہ بی بی اور دیگر دو رشتہ داروں کو بھی نامزد کیا گیا تھا جنہیں‌عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر بری کر دیا تھا.
قاتل کو سیشن جج نے 2025کو موت کی سزا سنائی تھی لیکن شریک ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوسکی.