مودی نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی، پوری وادی میں مظاہرے

علیحدگی پسند اور مذہبی جماعتوں کے خلاف جاری کریک ڈاون سے وادی کے اندرونی حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

بھارتی حکومت  کی وزارت داخلہ نے گذشتہ رات سب سے بڑی مذہبی و سیاسی جماعت جماعت اسلامی پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کر دی، جس کے ردعمل میں آج سرینگر اور بیشتر علاقوں میں مظاہرے ہوئے۔

بھارتی وزارت داخلہ کے حکم نامے میں لکھا ہے کہ جماعت اسلامی زیرزمین مسلح گروپوں کے رابطے میں ہے اور لوگوں کو پرتشدد کارروائیوں کے لیے یہ جماعت پاکساتی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر حمید فیاض اور سینکڑوں کارکنوں کو گزشتہ ہفتے کے دوران پولیس نے وادی کے مختلف علاقوں سے گرفتار کرلیا۔ جمعہ کے روز بھی جنوبی قصبہ ترال سے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ جماعت پر پابندی اور اس کے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور یاسین ملک مشتمل مشترکہ مزاحمتی فورم کی کال آج جمعہ کی نماز کے بعد جگہ جگہ مظاہرے کئے گئے۔

واضح رہے چودہ فروری کو پلوامہ میں ہوئے خود کش حملے میں چالیس سے زیادہ فورسز اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حکومت ہند نےجماعت اسلامی کے امیر حمید فیاض اور سینکڑوں دیگر جماعت کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

گزشتہ کئی روز سے جماعت کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے اور عوامی حلقوں میں یہ افواہیں بھی پھیل گئی ہیں کہ حریت کانفرنس اور دیگر جماعتوں کو بھی کالعدم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم حکومت نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔

جمعہ کے روز جماعت پر پابندی کے خلاف مظاہرے بھی کئے گئے اور مظآہروں کا دائرہ محدود رکھنے کے لیے سرینگر اور دوسرے اضلاع میں حساس علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی اور انٹرنیٹ کو معطل کیا گیا۔ ہندنواز رہنماؤں عمرعبداللہ، محبوبہ مفتی، سجاد لون اور انجنئیر رشید نے اس پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے تیس سال قبل بھی جب سیاسی آزادی کو سلب کرلیا تو کشمیر ایک خونریز دور میں داخل ہوگیا تھا۔