وزارت قانون نے واضح کیا ہے کہ وزارت نے صدر مملکت کی ہدایت پر ریفرنس کی زبان میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ جاری کردہ پریس ریلیز میں وزارت قانون نے کہا ہے کہ میڈیا کے کچھ حلقوں میں شائع ہونے والی خبر جس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وزارت قانون و انصاف نے جان بوجھ کر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس میں سخت زبان استعمال کی تھی اور صدر مملکت عارف علوی نے ریفرنس کی زبان میں تبدیلی کرائی۔ زبان کی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ ایوانِ صدر کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی اور زبان کی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں، کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے سپریم کورٹ کے سینئر جج کیخلاف کیس شروع کرایا اور وہی اس کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ وزارت قانون کا کہنا ہے کہ یہ بات بدنیتی پر مبنی ہے۔ وزارت قانون کے پاس کسی بھی جج کے اثاثوں کی جانچ کا میکنزم موجود نہیں۔ وزارت کا کام اثاثہ ریکوری یونٹ اور فیڈرل بورڈ آف
ریونیو سے موصول ہونے والی شکایات ملک کے وسیع ترین مفاد میں پراسیس کرنا ہے۔ وزارت قانون و انصاف اور وزیر قانون قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور اسی بات پر یقین رکھتے رہیں گے۔ وزارت قانون کا کہنا ہے کہ میڈیا کے ایک حلقے میں یہ بات آنا، کہ وزیر قانون پر جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس تیار کرنے کی وجہ سے تنقید کی گئی ہے، غلط اور متعلقہ صحافی کی اپنی سوچ ہو سکتی ہے۔ وزیر قانون کو ہمیشہ قانون کی بالادستی کے حوالے سے سراہا گیا ہے۔



