
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے آزاد کشمیر کو پاکستان کی ترقی کا انجن بنایا جا سکتا ہے
اسلام آباد:آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر سی پیک کا حصہ ہے اور اس سلسلہ میں پھیلا ئی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں موثر منصوبہ بندی کو یقینی بنا کر چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے آزاد کشمیر کو پاکستان کی ترقی کا انجن بنایا جا سکتا ہے۔ آزاد کشمیر میں سی پیک کے تحت چار بڑے منصوبوں میں سے ایک مکمل ہو چکا ہے، دو منصوبوں پر ابتدائی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ مانسہرہ، مظفرآباد، منگلا میرپور شاہراہ پر کام اگلے مالی سال سے شروع ہو جائے گا۔ ن خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز اسلام آباد کے تعاون سے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی میں قائم سی پیک سنٹر کے زیر اہتمام ”اسپیشل اکنامک زون مستقبل کے امکانات اور پوٹشنل“ کے عنوان سے ایک روزہ کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے ملک کی جامعات، سکالرز اور ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے معاشی و اقتصادی فوائد کو موثر انداز میں اُجاگر کرنے کے علاوہ اس منصوبے کے خلاف جاری منفی مہم کا موثر جواب دیں۔ کانفرنس سے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلیم عباسی، اسپیشل اکنامک زونز کے ڈائریکٹر اسٹریٹیجی حسن این انصاری، اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر چین پاکستان اسٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر طلعت بشیر، ڈین فیکلٹی آف آرٹس ڈاکٹر عائشہ سہیل اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ صدر سردار مسعود خان نے اس اہم موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، یونیورسٹی کے سی پیک سنٹر اور انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے تحت ملک بھر میں نو اسپیشل اکنامک زون قائم ہوں گے جن میں سے ایک میرپور آزاد کشمیر میں ہو گا جن کے کئی بالواسطہ اور بلا واسطہ اقتصادی فواہد ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان زونز کے اندر جدید صنعتوں کے قیام، مختلف النوع برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مختلف مہارتوں کی ترقی جیسے بلاواسطہ فوائد کے علاوہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، زر مبادلہ میں اضافہ، برآمدات کی بڑ ہوتری، حکومت کی آمدنی میں اضافہ، روزگار کے نئے ذرائع جیسے براہ راست فوائد بھی حا صل ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ میرپور میں اسپیشل اکنامک زون کے قیام کے لیے گیارہ سوپچاسی ایکٹر ز زمین کی نشاندہی کر لی گئی جس میں سے پہلے مرحلے میں پانچ سے اکہتر ایکٹر زمین حاصل کی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں چھ سو چودہ ایکٹر زمین کی ملکیت منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت قائم ہونے والے میرپور اسپیشل اکنامک زون کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کر کے چین کے متعلقہ حکام کے حوالے کی جا چکی ہے اور اس طرح منصوبے کی ماحولیاتی اسٹڈی، ٹاپو گرافی سروے اور دیگر فنی مراحل بھی طے کر لئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر نے میرپور اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاری کے خواہشمند سرمایہ کاروں کے لیے کئی مراعات کا بھی اعلان کیا ہے جن میں بلا ٹیکس مشینری اور دیگر اشیاء کی درآمد کے علاوہ اسپیشل اکنامک زون میں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور متوقع سرمایہ کاروں کو صنعتیں چلانے کے لیے مقامی طور پر بجلی کی پیداوار خود کرنے کی اجازت دینے جیسی مراعات اور ترغیبات شامل ہیں۔ انہوں نے حکومت آزاد کشمیر نے ملکی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے علاوہ بیرون ملک آباد کشمیریوں کو آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے کے لیے بورڈ آف انوسٹمنٹ بھی قائم کر دیا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کو سرمایہ کے تحفظ اور اُن کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی پر بھی کام جاری ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے درپیش چیلنجز اور مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کو صنعتی ترقی سے ہمکنار کرنے کے لیے نا کافی سرمایہ، علاقے میں سوئی گیس کی عدم موجودگی، اکنامک زون میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی، پبلک پرائیویٹ، پارٹنر شپ کے ماڈل کی عدم موجودگی، ڈرائی پورٹ، ای فائلنگ اور دینہ، جہلم اور میرپور کے درمیان ریلوے لنک کی فراہمی جیسی مشکلات ہیں جن پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اسپیشل اکنامک زون میں ترقیاتی کام کی رفتار کو تیز کریا جائے۔ صنعت و زراعت کی ترقی میں توازن کو یقینی بنایا جائے۔ مقامی ماحولیاتی مسائل کو بروقت، ترجیحاً حل کیا جائے اور مقامی صنعت کاروں اورچھوٹے کاروباری حضرات کو اعتماد میں لے کر اُن کے اندر شراکت داری کا احساس پیدا کیا جائے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلیم عباسی نے کہا کہ جامعہ کشمیر کا سی پیک سنٹر چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو اس کے صحیح تناظر میں اُجاگر کرنے میں مختلف مواقع پر کانفرسز، سیمینارز اور سمپوزیم منعقد کر کے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں یونیورسٹی نے اہم سیمینار منعقد کیا جبکہ حال ہی چین پاکستان اسٹڈی سنٹر کے تعاون سے اسلام آباد میں ایک ورکشاپ کے علاوہ اس سلسلے میں تیسری بڑی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے صدر سردار مسعود خان کو مکہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر تنازعہ کشمیر کو موثر انداز میں اُجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔اس موقع پر انسٹیٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے چین پاکستان اسٹڈی سنٹر اور آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت کی ایک یاداشت پر بھی دستخط کئے گئے جس کے تحت دونوں ادارے تعلیم و تحقیق کے میدان میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔




