‘بھارتی شہری ہونے کے ناطے کشمیر سے متعلق حکومتی فیصلے پر بالکل فخر نہیں’

ہم اپنی مقبولیت اپنے ہی اقدامات کی وجہ سے کھو رہے ہیں، بھارتی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر امرتیا سین — فوٹو بشکریہ ہندوستان ٹائمز

بھارت کے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر امرتیا سین نے بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے کشمیر کے حوالے سے اقدمات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر تنازع کا غیر جمہوری حل نہیں ہوسکتا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کو انٹرویو میں حکومتی فیصلے میں غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘بھارتی شہری ہونے کے ناطے مجھے اس پر بالکل فخر نہیں کہ دنیا بھر میں اپنی جمہوریت کا لوہا منوانے اور اتنا کچھ حاصل کرنے کے بعد ہم اپنی مقبولیت اپنے ہی اقدامات کی وجہ سے کھو رہے ہیں’۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور ریاست کو 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل کرنے کا بل پیش کیا تھا۔

بھارتی حکومت کے فیصلے سے بھارت کے دیگر ریاستوں کی عوام کو بھی مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور رہائش اختیار کرنے کا حق حاصل ہوا جس کے بارے میں ڈاکٹر امرتیا سین کا کہنا تھا کہ ‘اس بات کا فیصلہ جموں و کشمیر کی عوام کو کرنے دینا چاہیے تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ کشمیریوں کی زمین ہے اور اس بارے میں ان کا نقطہ نظر قانونی ہے’۔

انہوں نے حکومت کے مقبوضہ کشمیر کے اہم سیاسی رہنماؤں کو زیر حراست لینے کے بی جے پی حکومت کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے نہیں لگتا کہ آپ کبھی مقامی رہنماؤں کی آواز سنے بغیر انصاف کرسکتے ہو اور اگر آپ ہزاروں رہنماؤں پر پابندیاں عائد کردو اور ان میں سے کئی نامور رہنما جو ملک کی قیادت کرچکے ہیں اور ماضی میں حکومتیں بنا چکے ہیں، کو جیلوں میں ڈال دو، تو آپ جمہوریت کا گلا گھونٹ رہے ہو’۔

بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کی حراست کے اقدام کے فیصلے کو احتیاطی تدابیر قرار دیے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ خلاصی حاصل کرنے کا قدیم نو آبادیاتی طریقہ ہے، اس ہی طرح برطانیہ نے ملک کو 200 سال تک چلایا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم دوبارہ احتیاطی اقدامات کے بتا کر حراست میں لیے جانے کے نو آبادیاتی ورثے پر عمل پیرا ہوں گے، مجھے اس کی کبھی امید نہیں تھی’۔