
نان بائی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں روٹی اور نان تندور والوں کا کاروبار تباہ ہو گیا ہے،میدے اور آٹے کی قیمت کم نہ ہوئی تو روٹی کی قیمت 15 روپے تک جا سکتی ہے۔
دوسری طرف اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل پاکستان نان بائی ایسوسی ایشن کے چیئرمین شفیق قریشی اور جنرل سیکرٹری خورشید قریشی نے کہا گیس 192 فیصد مہنگی کر دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ میدہ ایک ہزار روپے فی بوری مہنگا ہوگیا، ایسے میں نان بائیوں کا کاروبار تباہ ہوکر رہ گیا ہے، فلور مل مالکان اپنی من مانی کر رہے ہیں حکومت نوٹس لے۔
چیئرمین نان بائی ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ فلور ملز ایسوسی ایشن والوں سے قیمتیں کم کرائی جائیں، آٹے کی قیمت کم نہ ہوئی تو روٹی کی قیمت پندرہ روپے تک جا سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے تندور والوں کو ريليف دیتے ہوئے يکم جولائی سے سوئی گيس کی قيمتوں ميں ہونيوالا اضافہ واپس لے ليا، تندور ملکان پرانے چارجز کے مطابق ہی بل ادا کريں گے۔
شہری کہتے ہيں کہ گھريلو صارفين کے ليے بھی گيس سستی ہونی چاہيے تاہم سوئی گیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ بلز ميں درستگی کے ليے ایس ایس جی سی سے رابطہ کريں۔




