
تھائی لینڈ میں ایک جج نے ضمیر کے خلاف فیصلہ دینے کے بعد خود کو گولی ما رلی ہے۔ تاہم ڈاکٹروں نے ان کی جان بچا لی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کے ضمیر پر کیا بوجھ تھا۔
کئی بار سننے کو ملتا ہے کہ فیصلہ سنانے کے بعد جج استعفا دے دیتے ہیں یا تبادلہ کروا لیتے ہیں۔دنیا بھر کے عدالتی نظام پر کئی بار انگلیاں اٹھ چکی ہیں چونکہ عدالت میں جو ثبوت پیش کیے جاتے ہیں عدالت نے انہی کو سچ یا جھوٹ مان کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے جبکہ بعض اوقات ججز کا ضمیر ان ثبوتوں کو ماننے سے انکار کررہا ہوتا ہے مگر انہوں نے کرنا وہی کچھ ہوتا ہے جو ثبوت اسے اجازت دے رہے ہوتے ہیں۔یوں فیصلہ کرنے کے بعد جج ضمیر کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور ایسے میں کوئی بھی قدم اٹھا لیتے ہیں۔ایسا ہی ایک لرزہ خیز واقعہ تھائی لینڈ میں پیش آیا جہاں جج نے فیصلہ سنانے کے بعد خود کو گولی مارلی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق تھائی جج نے قتل اور فیس بک کی لائیو ویڈیو میں سلطنت کے عدالتی نظام کی بُرائی کرنے کے کیس میں کئی ملزمان کو بری کرنے کے فیصلہ سنانے کے بعد خود کو سینے میں گولی ماری۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کی عدالتیں اکثر امیروں اور طاقتور افراد کے حق میں فیصلے سناتی ہیں، جبکہ عام آدمی کو معمولی جرم میں بھی جلد اور سخت سزائیں سنائی جاتی ہیں۔تاہم کسی جج کے منہ سے آج تک عدالتی نظام پر تنقید سننے میں نہیں آئی۔یالا شہر کی عدالت کے جج کاناکورن پیانچانا پانچ مسلم ملزمان کے خلاف قتل کے کیس کی سماعت کر رہے تھے۔انہوں نے قتل کرنے والے گروپ کے ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا اور اس کے بعد پستول نکال کر خود کو سینے میں گولی مار لی۔قبل ازیں عدالت میں ریمارکس اور فیس بک لائیو پر اپنے الفاظ نشر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘کسی کو سزا سنانے کے لیے آپ کو شفاف اور ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا اگر آپ کو یقین نہ ہو تو کسی کو سزا نہیں دینی چاہیے۔’انہوں نے کہا کہ ‘میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پانچوں ملزمان نے کوئی جرم نہیں کیا، انہوں نے شاید کیا ہو لیکن عدالتی نظام کو شفاف اور قابل اعتبار ہونے کی ضرورت ہے اور بے گناہوں کو سزا دینا انہیں قربانی کا بکرا بنانا ہے۔’اس کے بعد فیس بک لائیو ویڈیو ختم ہوگئی تاہم عینی شاہدین نے کہا کہ جج نے سابق تھائی بادشاہ کی تصویر کے سامنے آئینی حلف کے الفاظ دہرائے اور پھر خود کو گولی مار لی۔عدالتی دفتر کے ترجمان نے بتایا کہ ڈاکٹرز جج کا علاج کر رہے ہیں اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے،جج نے ذاتی دباؤ کی وجہ سے خود کو گولی ماری تاہم اس دباؤ کی وجہ فی الوقت واضح نہیں۔



