
پاکستان پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کر دیاہے۔ مسلم لیگ ن اس حوالےسے آج (جمعرات کو)بڑا فیصلہ کرنے جارہی ہے اور اس بات کا غالب امکان ہے کہ وہ فیصلہ مولانا کے حق ہی میں آئے گا
سابق وزیراعظم نوازشریف سے جیل میں ملاقات کے بعد اس بارے حتمی فیصلہ ہوگا۔جس کے باعث حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے جوپہلے ہی بڑھتی مہنگائی اور تاجروں کے متوقع احتجاج کے باعث عوامی مقبولیت کھو رہی ہے۔
کراچی میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورت حال پرغورکیا گیا۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں بلاول نے کہا کہ نالائق، نااہل حکومت عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، ہم چاہتے ہیں ملک میں معاشی انصاف ہو۔
بلاول نے اس موقع پر اعلان کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے، ہم فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حمایت کرتے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے عہدیدار آزادی مارچ میں تعاون اوران کا استقبال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز کی مناسبت سے 18 کتوبر کو کراچی میں جلسہ منعقد کیا جائے گا، اگلے مہینے میں پنجاب میں انٹری دیں گے۔
بلاول نے کہا کہ فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں سندھ حکومت تعاون کرے گی، ملک میں سیاسی آزادی نہیں، جمہوری حقوق پامال ہورہے ہیں، جمہوری حقوق کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے، عام آدمی مہنگائی کے سونامی میں ڈوب گیا ہے، گیس،بجلی سمیت ہر چیز مہنگی کردی گئی ہے۔
بلاول نے مزید کہا کہ عمران خان کہتے رہے کہ دھرنے کیلئے کنٹینر اور کھانا بھی دیں گے، مولانا فضل الرحمان اسلام آباد آرہے ہیں، عمران خان بریانی بنوانا شروع کردیں، فضل الرحمان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ جینا ہوگامرنا ہوگا،دھرنا ہوگا،دھرنا ہوگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہمیں دھرنا سیاست سے گریز کرنا چاہیے، حکومت آپشنزبند کرتی جارہی ہے، آج مولانا نے یہ قدم اٹھایا کل پیپلزپارٹی بھی یہ قدم اٹھاسکتی ہے،دھرنا دینا جمہوری حق ہوتا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جب کوئی اور آپشن نہیں ہوگا تبھی مولانا نےاحتجاج کا اعلان کیا ہے کل ہم بھی کرسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی شروع سے کہہ رہی ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی اخلاقی حمایت کرتی ہے تاہم واضح طور پر ابھی تک یہ نہیں کہا گیا کہ آیا پیپلز پارٹی خود اس مارچ کا حصہ ہوگی یا نہیں۔
25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سمیت کئی بڑے ناموں کو شکست ہوئی جس کے فوراً بعد جے یو آئی ف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا۔
جس کے بعد سے مولاناحکومت گرانے کےلئے پیش پیش ہیں اور دیگر اپوزیشن سے زیادہ متحرک نظر آتے ہیں اور انہیں حکومت کی تمام پالیسیوں سے شدید اختلاف ہے۔
مولانا فضل الرحمان کہا کہنا ہے کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں ملک کو مختلف بحرانوں سے دوچار کردیا گیا ہے، اس وقت پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے نتیجے میں ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال انتہائی ابتر ہے، معاشی بدحالی سے روس ٹکرے ہوگیا اور ہمیں ایسے ہی حالات کا سامنا ہے، ملک میں قومی یکجہتی کا فقدان ہے، ملک کا ہر طبقہ پریشانی میں مبتلا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کل تک ہم سوچ رہے تھے، سری نگر کیسے حاصل کرنا ہے؟ آج ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ مظفر آباد کیسے بچانا ہے؟ عمران کہتا تھا مودی جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا، موجودہ حکمران کشمیر فروش ہیں اور ان لوگوں نے کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے الزام عائد کیا کہ ہم عالمی سازش کا شکار ہیں اور ہمارے حکمران اس کا حصہ ہیں، جب تک میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہا تو کشمیر کو کوئی نہیں بیچ سکا لیکن میرے جانے کے بعد کشمیر کا سودا کیا گیا۔ حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے قوم ہمارا ساتھ دے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لاک ڈاؤن میں عوام آئیں گے، انہیں کوئی نہیں اٹھا سکتا، ہمارے لوگ عیاشی کیلئے نہیں آئیں گے اور ہر سختی برداشت کرلیں گے۔




