
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے لیے جنگ کی بات کرنے والے لوگ کشمیر اور پاکستان کے ساتھ غداری کررہے ہیں۔
قوم سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو 9 لاکھ فوجی رکھے ہوئے ہیں وہ کشمیریوں کو دہشتگردی کے ذریعے دبانے کے لیے رکھے ہوئے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے جنگ کی تو بھارت کشمیریوں کو کچل دے گا ، وہ پلوامہ جیسے کسی واقعے کا انتظار کررہا ہے تاکہ دنیا کی توجہ کشمیر کے مسئلے سے ہٹاکر پاکستان پر لگادے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہو، میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں ہم کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی مدد جاری رکھیں گے جبکہ میں پوری دنیا میں کشمیر کا ترجمان ہوں اوان کا وکیل بنوں گا ۔
عمران خان نے کہاکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے الیکشن جیتنے کے بعد کشمیر پر کرفیو لگادیا اور نریندر مودی نے یہ اقدام اٹھانے کے بعد کہا کہ میں کشمیر کے لوگوں کی بہتری کے لیے یہ کام کررہا ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ آج خطاب کرنے کا مقصد کشمیر کے عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کے عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ میں نے ساری دنیا کے سامنے رکھ کر پیش کیا اور دنیا بھر کے سربراہان مملکت کو کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا ۔

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لئے وزیراعظم کو
ابن قاسم بننا ہوگا عمران خان کی کابینہ میں صرف پرویز مشرف نہیں باقی سب وہی لوگ ہیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عمران خان کی کشمیر پالیسی اور سابق حکومت کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں،انہیں ابن قاسم بننا ہوگا۔
گجرات میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام کشمیر بچاؤ مارچ سے خطاب میں سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم صاحب نے کہا تھاکہ وہ ٹیپو سلطان بنیں گے، لیکن ان کا کشمیریوں سے سلوک پچھلی حکومت کے جیسا ہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہ بن جائے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، وزیراعظم عمران خان کو کشمیر کی آزادی کے لیے ابن قاسم کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی کابینہ صرف پرویز مشرف نہیں ہے،باقی سب وہی لوگ ہیں۔
انہوں نےکہا کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث لوگوں کو متاثرین پر دباؤ ڈال کر معاف کروایا، میں سانحہ ساہیوال کے قاتلوں کا پیچھا کروں گا۔
سراج الحق نے کہا کہ نئے پاکستان میں ہر چیز پرانی ہے، آج پورا پنجاب ڈینگی کے حملوں کی زد میں ہے۔




