مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان پلان بی کے تحت پورے ملک میں شاہرائیں بند کرنے کا آغاز


مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان
اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔اسلام آباد میں آزادی مارچ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیاگیا ہے، 2ہفتوں سے ایک قومی سطح کا اجتماع تسلسل کے ساتھ ہوا، ہماری قوت یہاں پر جمع ہے جب کہ ہمارے دیگر کارکنان یہاں دھرنے میں شریک افراد کے تعاون کے منتظر ہوں گے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم سڑکوں پر موجود اپنے ساتھیوں کے پاس جائیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ دیوار ہل چکی ہے اس کو ایک دھکا دینے کی ضرورت ہیں، ہم اگلے مرحلے میں اس دیوار کو گرادیں گے اب ہم شہروں کے اندر نہیں بلکہ باہر شاہراہوں پر بیٹھیں گے، جس طرح ہم یہاں پر امن تھے اگلے محاز پر بھی پرامن رہیں گے۔

سربراہ جے یو آئی ف نے مزید کہا کہ ہم سب کی جنگ لڑ رہے ہیں، کسی ذات یا ایک جماعت کی نہیں ،ادارے بھی اس مارچ کی حمایت کریں، ہم نہیں چاہتے کہ عام آدمی کی زندگی متاثر ہو ہم شہروں سے باہر جاکر بیٹھنا چاہتے ہیں، ہمیں ناجائز حکمران قبول نہیں ہے، جہاں جہاں مظاہرہ ہوگا وہاں وہاں ایک ذمہ دار کا تعین کیا گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی مریض یا میت کا راستہ بند نہیں ہونا چاہئے، مقامی طور پر کسی بھی ایمرجنسی کو ڈکلیئر کرسکتے ہیں، ہم نے ملک کا نقصان نہیں کرنا، یہ ناجائز حکومت جب تک ہے ایک ایک دن تنزلی کی طرف جارہا ہے، کیابات ہے کہ بھارت، چین، بنگلا دیش، ایران اور افغانستان کی معیشت اوپر جارہی ہے، اس پورے خطے میں پاکستان کی معیشت تنہا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں نمائندہ حکومت نہیں ہے۔

سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ایسےحکمرانوں سے ملک کو نجات دلاناتحریک کا بینادی نکتہ ہے،ہم اپنی تحریک سے ایک انچ بھی پیچھےہٹنےکے لیے تیارنہیں،حکومت کو استعفی دینے کے لیے مجبورکرناہوگا ،حکومت کوعام انتخابات کے لیے مجبورکرناہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ انہوں نے کشمیر کو بیچا ہے،ہم بابری مسجدکے فیصلے کو ہندوانہ تعصب سےتعبیرکرتے ہیں،ہم کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ قوم قدم بقدم آپ کے ساتھ ہے،ہم کس کس چیزکو روئیں۔

سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قوم کی بیٹی عافیہ کتنےسالوں سے امریکی جیلوں میں ظلم سہہ رہی ہے،پوری قوم شرمندہ ہے لیکن حکمرانوں کی  کمزوریوں کی وجہ سے ہم کچھ نہ کرسکے،اب آپ نے یہاں سے منظم طریقے سے جانا ہے،کوئی ریاستی قوت ہمارے جوانوں کا راستہ نہ روکے،جب ہم تصادم کی طرف نہیں جارہےتو کوئی ادارہ کیوں ہمارے راستے میں آئے گا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے لیے علاج کے لیے ملک سے باہر جاناناگزیرہے،حکومت نےبداخلاقی کا مظاہرہ کیا،حکومت کے اس ظالمانہ اور بداخلاقی پر مبنی رویے کی مذمت کرتے ہیں ۔

اس سے قبل آزادی مارچ دھرنے کے شرکاء سے   خطاب کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمان نے اگلے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پلان بی پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اہم شاہراہوں کو بلاک کیا چکا ہے جبکہ بلوچستان میں چمن کوئٹہ شاہراہ پردھرنا دیا گیا ہے۔

مولاناعطاء الرحمان نے کہا کہ دوپہر دو بجے سے خیبرپختونخوا کو راولپنڈی سے ملانے والے اہم شاہراہوں کو بند کیا جائے گا جب کہ پنجاب میں بزدار شاہراہ کو بھی بند کیا جائے گا، شاہراہ ریشم کو بھی بند کردیا گیا ہے، اب لوئر دیر میں چکدرہ چوک، انڈس ہائی وے کو بھی بند کریں گے۔

مولانا راشد سومرو نے کہا کہ کارکن  دو بجے سے پہلے پر ان مقامات پر پہنچیں لیکن ہرگزڈنڈے نہ اٹھائیں اور ایمبولینس کوراستہ دیں،  کراچی میں حب ریورروڈ، سکھر میں موٹر وے، گھوٹکی سے پنجاب میں داخل ہونے والی شاہراہ اور کندھ کوٹ سے پنجاب میں داخل ہونے والے راستے کو بند کر دیا جائے گا۔