ترک دارالحکومت انقرہ میں ہونے والی عالمی کشمیر کانفرنس میں ورلڈسکھ پارلیمنٹ کے رہنماوں نے ہندستانی جھنڈے سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اسٹیج سے بھارتی ترنگا ہٹوا دیا ترک دراالحکومت انقرہ میں جاری دوروزہ عالمی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کی سیلف ڈٹرمینینشن کونسل کے کو آرڈینیٹر رنجیت سنگھ نے اسٹیج پہ بھارتی جھنڈا دیکھنے کے بعد اسے ھٹانے کی درخواست کی ۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ آج سے میں اس جھنڈے سے لا تعلقی کا اعلان کرتا ہوں ۔ انہوں نے منتظمین سے گزارش کی کہ آپ اسکرین پر میری تقریر کے دروان برطانیہ کا جھنڈا لگائیں کیونکہ میں برطانوی شہریت رکھتا ہوں ۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ بھارتی ترنگا دکھا یا جائے ۔آج سے میں کبھی بھارتی جھندا اپنے نام کے ساتھ نہیں لگاوں گا ۔ انقرہ میں جاری کشمیر عالمی کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے پچیس ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔ اس دو روزہ عالمی کشمیر کانفرنس کا انعقاد ترکی کے تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک تھنکنگ اور پاکستان کے تھنک ٹینک لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ نے مشترکہ طور پر کیا تھا ۔ دو روز سے جاری کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا ۔ اس موقع پر مقررین نے دنیا پر زور دیا کہ عالمی طاقتیں بھارت پر دباو بڑھا ئیں کہ وہ کشمیریوں پر جاری ظلم کا بازاربند کرے ۔ کانفرنس سے لارڈ نذیر احمد ، آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان ، امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمن ، ترکی کی جسٹس اینڈڈیولپمنٹ پارٹی کے پارلیمینٹ گروپ کے چئیرمین ایرگان آبچائے ، ترکی کے محکمہ مذہبی امور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباش او ر ترکی کی قومی اسمبلی کے قائم مقام اسپیکر سریا سعدی نے بھی خطاب کیا ۔ کانفرنس میں جرمنی ، انڈونیشیا ملائیشیا ، روس ، اور چین کی مختلف یونیورسٹیز کے پروفیسرز نے بھی اپنے مقالے پیش کئے اور حاضرین کو بتایا کہ عالمی سیاست کو اس وقت چھ اہم مسائل کا سامنا ہے ، جن مین یروشلم ، قبرص، کشمیر ، کریمیا اور سنکیانگ کے تنازعے سر فہرست ہیں ۔ اگر یہ چھ تنازعات حل ہو جائیں تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے ۔ دو روزہ کانفرنس جمعرات کی شام اختتام پذیر ہو گئی ۔



