بھارت، جرگے کی انوکھی منطق،پولیس کوعصمت دری کی شکایت کرنے والی خاتون کو ہی جرمانہ کر دیا، آپ کی جانب سے پولیس کو شکایت کرنے سے گاؤں کی بدنامی ہوئی ہے خاتون کو جرمانہ،ملزمان کو بھی فی کس 5000روپے جرمانہ

 

نئی دہلی:چھتیس گڑھ کے جیش پور ضلع میں ایک 23 سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بننے اور اس زیادتی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروانے پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا،عمائدین جرگہ کا موقف تھا کہ خاتون کی طرف سے پولیس میں شکایت درج کرانے سے ان کے گاؤں کی بدنامی ہوئی ہے۔ اس لئے خاتون کو جرمانہ دینا ہوگا۔ جرگہ نے انصاف کرتے ہوئے زیادتی کرنے والے دونوں نوجوانوں کو بھی فی کس پانچ ہزار جرمانے کی سزاء سنائی۔تفصیلات کے مطابق جیش پور کے ایک گاں کے عمائدین کی طرف سے خاتون کو 5000 روپے جرمانہ کیا گیا کیونکہ اس نے اپنے ساتھ ہونے والے جنسی زیادتی کی شکایت کے لیے پولیس سے رجوع کرکے مبینہ طور پر اپنے گاؤں کو بدنام کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق جیش پور نگر میں اس خاتون کو دو نوجوانوں نے اس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا جب وہ ہمسایہ گاؤں میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جا رہی تھی۔ملزمان جس کی شناخت سندیپ اور کشور کے نام سے ہوئی ہے نے متاثرہ خاتون کو کام کے بہانے فون کرکے بلایااس کے ساتھ زیادتی کی۔ انہوں نے اسے دھمکی دی کہ وہ واقعے کی اطلاع کسی کو نہ دیں۔ اگلے دن خاتون تھانے گئی، لیکن اس کی شکایت درج نہیں کی گئی۔اس واقعے کے بارے میں جب گاؤں والوں کو پتہ چلا تو برادری کے عمائدین کاایک جرگہ طلب کیا گیا۔جہاں خاتون نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی بیان کی اور انصاف طلب کیا۔تاہم گاؤں کے بزرگوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ خاتون نے پولیس سے رجوع کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ خاتون کے اس اقدام سے ان کے گاؤں کی بدنامی ہوئی ہے۔چنانچہ اسے 5000روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ملزموں کو بھی اس گھناونے جرم کا ارتکاب کرنے پر فی کس5000 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔متاثرہ خاتون کی والدہ نے بتایا کہ ہم غریب ہیں اور انصاف کے حصول کے لئے پولیس سے رجوع کرنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ جرگے کے دوران، انہوں نے میرے اور میرے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا کہ ہم شکایت واپس لیں۔ لیکن ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ لڑکی کی والدہ نے کہا کہ ملزم نوجوانوں نے جرگہ ختم ہونے کے فورا بعد ہی جرمانے کی ادائیگی کی لیکن ہم غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے اس رقم کا بندوبست نہیں کرسکے۔بچی پھر سے پولیس کے پاس گئی جس کے بعد انہوں نے واقعے کے 12 دن بعد ایف آئی آر درج کی۔