طویل راہیں جدا،تحریک انصاف کے بانی رکن حامد خان کی رکنیت معطل

پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے بانی رکن حامد خان کی بنیادی رکنیت معطل کردی۔

پاکستان تحریک انصاف نے ’ ڈسپلن کی خلاف ورزی‘ پر پارٹی کے بانی رکن اور عمران خان کے پرانے دوست حامد خان کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے بنیادی رکنیت بھی معطل کردی ہے۔

حامد خان سپریم کورٹ کے سنیئر وکیل ہیں اور تحریک انصاف کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں۔ مسلم لیگ ن کے خلاف 4 حلقے کھولنے کا کیس بھی حامد خان نے درج کروایا تھا جس میں انہوں نے خاص طور پر خواجہ آصف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔

پارٹی کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ حامد خان نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں پارٹی اور چئیر مین سے متعلق من گھڑت بیانات دئیے جن کے باعث پارٹی کے ارکان اور کارکنان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی جبکہ پارٹی چئیرمین پر الزام تراشی کے ذریعے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف نے حامد خان سے 7 دن میں جواب طلب کیا ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جواب نہ دینے کی صورت میں انہیں پارٹی سے مستقل طور پر خارج کردیا جائے گا۔

نوٹس میں حامد خان کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ شوکاز نوٹس پر حتمی فیصلے تک میڈیا پر پارٹی مخالف بیانات نہ دیے جائیں۔

مسلم لیگ ن کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تحریک شہنشاہیت میں صرف شہنشاہ معظم کی ہاں میں ہاں ملانا ہی سلامتی کی ضمانت ہے۔ جسٹس وجیہ الدین کا کیا انجام ہوا۔‘

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے 4 بانی ارکان کو پارٹی نے سائیڈلائن کردیا ہے جن میں جسٹس وجیہ الدین، حامد خان، اکبر ایس بابر اور فوزیہ قصوری شامل ہیں۔ جسٹس وجیہ الدین اور حامد خان تحریک انصاف کا آئین لکھا جبکہ اکبر ایس بابر عمران خان کے ذاتی دوستوں میں شامل تھے۔

اکبر ایس بابر کو تحریک انصاف نے فارن فنڈگ کا حساب مانگنے پر مردود حرم ٹھہرایا جبکہ جسٹس وجیہ الدین کو پارٹی کے اندرونی انتخابات میں دھاندلی کے خلاف رپورٹ مرتب کرنے پر بے دخل کیا گیا۔

حامد خان نے مشہور زمانہ ’4 حلقوں‘ والا کیس دائر کر رکھا تھا جس نے تحریک انصاف کو ایک نئی زندگی دی مگر 2018 کے انتخابات کے بعد حامد خان بھی پارٹی کی پالیسیوں کے مخالف ہوگئے اور میڈیا پر برملا اس کا اظہار بھی کرتے رہے۔