غنڈہ نما سیکورٹی اہلکار نہ اندر جانے دیتے تھے نہ فون سننے پر آمادہ تھے،ان کی شناخت نہ ہونے پر شکایت بھی نہیں کی جاسکتی تھی
دعوت نامہ ہونے کے باوجود میڈیا کو کوریج کے لئے بھی اندر جانے کی اجازت نہ ملی،پی این سی انتظامیہ بھی موقع سے رفوع چکر

اسلام آباد:پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے زیر اہتمام ہونے والے اسلام آباد آرٹ فیسٹیول 2019 ء کے آخری روز بدنظمی اور بدانتظامی کی انتہاء ہو گئی۔پروگرام کا دعوت نامہ رکھنے والے مردو خواتین گیٹ پر ذلیل ہوتے رہے جب کہ مفت خورے پروگرام سے لطف انددوز ہوتے رہے، گیٹ پر کھڑے دو غنڈے نما نام نہاد سیکورٹی اہلکاروں نے میڈیا کو بھی پروگرام کی کوریج کی اجازت نہ دی۔ کئی خواتین ہاتھوں میں دعوت نامے اٹھائے گھنٹوں شمعدان حال کے دوازے پر ذلیل ہوتی رہیں جبکہ مفت خورے غنڈہ نما سیکورٹی اہلکاروں کی مٹھی گرم کرکے اندر جاتے رہے۔ اس موقع پر بعض صحافیوں اور مہمانوں نے سیکورٹی اہلکاروں کی انتظامیہ سے فون پر بات کروانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی بھی فون سننے سے انکار کر دیا۔پی این سی اے کی انتظامیہ بھی غنڈوں کے ہاتھوں بے بس نظر آئی اور پھر انہوں نے فون سننا بھی چھوڑ دئیے۔

تفصیلات کے مطابق پی این سی اے کے زیر اہتمام نجی ہوٹل میں آرٹ فیسٹیول کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی جس کے لئے دعوت نامے جاری کئے گئے مگر انتظامیہ نے ہال کے داخلی راستے پر غنڈے کھڑے کر دیئے جنھوں نے خواتین سمیت تمام مہمانوں کو دھکے دیئے اور دعوت نامے ہونے کے باوجود ہال میں داخل نہ ہونے دیا گیا جبکہ صحافیوں کو بھی جانے سے روکا اور بدتمیزی کی جس پر ہنگامہ ہو گیا خواتین کو دھکے دیئے گئے۔ اس موقع پر جب پی این سی اے کی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے فون تک نہیں اٹھایا اور موقع سے رفو چکر ہو گئے۔عینی شاہدین کے مطابق پی این سی اے انتظامیہ نے اقربا پروری کے زریعے اپنی فیملیوں کو ہال میں جانے دیا اور لوگوں سے رشوت لے کر ہال میں جانے دیا گیا جبکہ جن لوگوں کے پاس دعوت نامے موجود تھے انھیں روک دیا گیا۔بڑے تعداد میں شرفا ء اور خواتین کی دعوت نامے دکھانے کے باوجود پروگرام میں داخلے کی اجازت نہ ملی اور وہ مایوس لوٹ گئے۔ تاہم اس موقع پر بعض جہان دیدہ افراد دعوت نامے پھاڑ کر تیسری ڈگری استعمال کرتے ہوئے سیکورٹی اہلکاروں کی مٹھی گرم کر کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ گیٹ پر موجود غنڈہ نما سیکورٹی اہلکار نہ تو کسی کو اپنا نام بتانے پر آمادہ تھے اور نہ ان ک لباس پر کوئی شناختی نام یا علامت درج تھی کہ ان کی شکایت ہی کی جاسکے۔




