پاکستان کی افرادی قوت سرمایہ کاری کے فروغ کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کے بعد روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے،گوادر پرونیٹ کی رپورٹ

بیجنگ: چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں تیز رفتار صنعتی ترقی کے امکانات اور محنتی اور سستی افرادی قوت کے باعث پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے ایک پر کشش ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔گوادر پرونیٹ کی شائع رپورٹ کے مطابق سی پیک خصوصاً مجوزہ خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کے بعد ملکی افرادی قوت کے لئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔پاکستان کے حالیہ دورہ کے دوران تائیوان ٹیکسٹائل فیڈریشن کے صدر جسٹن ہونگ نے پاکستان کی افرادی قوت کی اہمیت پر بات کی ان کا کہنا تھا کہ سستی افرادی قوت کے باعث پاکستان تائیوان کی ٹیکسٹائل کمپنیوں کے لئے ایک پرکشش مقام بن سکتا ہے جو ویت نام سے اپنا کاروبار منتقل کرنے کی خواہاں ہیں۔اس وقت ویت نام میں تائیوان کی ٹیکسٹائل کمپنیوں کو ورکرز کی قلت جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔اس کے مقابلے میں پاکستان میں آئندہ دس سالوں کے لئے ہمیں افرادی قوت کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیش آنے والا نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یورپی یونین کے ساتھ ڈیوٹی فری معاہدہ ہے اور چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کا دوسرا مرحلہ بھی شروع ہونے والا ہے جو تائیوان کے سرمایہ کاروں کے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔رواں سال کے شروع میں ٹیکسٹائل کے حوالے سے ٹاسک فورس کے چیئرمین سلمان شاہ نے بھی پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر سے متعلق ہونے والے ایک سیمینار میں پاکستان میں سستی افرادی قوت کی اہمیت پر زور دیا تھا۔