دعا منگی گھر پہنچ گئی تاوان کیلئے معاملات پاکستان سے باہر طے ہوئے

کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا کی گئی دعا منگی 6 دن بعد گھر پہنچ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دعا کی رہائی مبینہ طور پر تاوان کی ادائیگی کے بعد عمل میں آئی ہے۔

19سالہ دعا منگی گزشتہ ہفتے کی رات 10 بجے ڈیفنس فیز 6 کے علاقے بڑا بخاری سے ایک ریسٹورنٹ کے باہر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔

چار سے زائد ملزمان کار میں سوار تھے جنہوں نے مزاحمت کرنے پر دعا کے ساتھی حارث سومرو کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا تھا۔

شاطر ملزمان دعا کا موبائل فون بھی وہیں پھینک کر فرار ہوئے تھے۔ بعدازاں ملزمان کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے دعا کے اہل خانہ سے ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دعا منگی علی الصبح اپنے گھر پہنچ گئی۔ اس کی رہائی کے طریقہ کار کی تفصیلات تو فوری طور پر دستیاب نہیں ہوسکیں تاہم پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دعا منگی خیریت سے ہے۔

دعا منگی کی والدہ اور خالہ کا کہنا ہے کہ دعا منگی خیریت سے ہیں تاہم وہ تھوڑی سہمی ہوئی ہیں۔
دعا منگی کے اغوا کے بعد تاوان وصول کرنے تک کے تمام معاملات انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستان سے باہر سے طے کیے گئے اور اس واردات کے تانے بانے 7 ماہ قبل بسمہ سلیم اغوا کیس سے 100 فیصد مل رہے ہیں۔اعلیٰ تفتیشی حکام کے مطابق 19 سالہ دعا منگی کے اغوا کے بعد تاوان طلب کرنے کی یکم دسمبر کو کی گئی پہلی کال سے لے کر 6 اور 7 دسمبر کی درمیانی شب تک ملزمان کا آخری رابطہ واٹس ایپ کے ذریعے بیرون ملک سے کیا گیا۔پولیس کو شبہ ہے کہ ملزمان کراچی میں اپنی فیلڈ ٹیم سے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ہی مسلسل رابطے میں تھے۔ کیس کا رابطہ کار گروہ دعا منگی کے اہل خانہ سے اردو میں بات کرتا تھا، ملزمان کی ہدایت کے عین مطابق اہلخانہ پولیس اور متعلقہ اداروں سے قطعی طور الگ ہوگئے تھے۔ذرائع کے مطابق ایک اہم سرکاری ادارے میں افسر اور مغویہ دعا کے ماموں نے بازیابی کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے رواں سال 11 مئی کو ڈیفنس میں ہی خیابان سحر پر دعا منگی کی ہم عمر لڑکی بسمہ سلیم کو بڑا بخاری کے چائے خانے سے واپس پہنچنے پر گھر کے سامنے سے عین اسی انداز میں کار سوار ملزمان نے اغوا کرلیا تھا۔ جبکہ دعا منگی کو چائے خانہ سے گھر روانہ ہوتے ہوئے کار میں اٹھایا گیا۔بسمہ سلیم کی رہائی کے لیے تاوان کی ادائیگی کے معاملات بھی انٹرنیٹ پر ہی طے کیے گئے تھے۔ دعا منگی کو بھی بسمہ سلیم کی طرح رات گئے تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا ہے۔