کشمیری قیادت کا اجلاس ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے ظلم و بربریت کی مذمت

 

اسلام آباد: وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی میزبانی میں آزادکشمیر کی تمام سیاسی ،مذہبی جماعتوں ،کل جماعتی حریت کانفرنس ،قوم پرست تنظیموں کا اجلاس جموں کشمیر ہاوس اسلام آباد میں منعقد ہوا ،
اجلاس میں صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان ، سابق صدور آزادجموں وکشمیر سردار یعقوب خان اور سردار محمد انور خان ، سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید ، سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر ، لیڈر آف دی اپوزیشن چوہدری محمد یاسین ، صدر مسلم کانفرنس مرزا شفیق جرال ، امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود، پیپلز پارٹی کے رہنما محمد مطلوب انقلابی، جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کے حسن ابراہیم ، تحریک انصاف کے عبدالماجد خان اور خواجہ فاروق احمد ، کنوینئر اے پی ایچ سی گیلانی سید عبداللہ گیلانی، کنونئیر اے پی ایچ سی میرواعظ سید فیض نقشبندی ، صدر جموں وکشمیر لبریشن لیگ عبدالمجید ملک ، امیر جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیر مولانا سعید یوسف ، صدر جمعیت اہلحدیث دانیال شہاب ، سینئر رہنما آل پارٹیر کانفرنس غلام محمد صفی ، مولانا امتیاز صدیقی صدر پیپلز پارٹی شہید بھٹوچوہدری منیر حسین ، چیئرمین JKHCRمحمد اسلم ملک ، چیئرمین پاسبان حریت عزیر غزالی ، پی این پی کے راجہ ذوالفقار ، سفیر عارف کمال ودیگر نے شرکت کی ۔
شرکاء اجلاس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، انسانیت کے خلاف جرائم ، جنگی جرائم ، آبادی کی حیثیت کو بدلنے کی کوششوں ، مقبوضہ جموں وکشمیر کی حیثیت کو بدلنے اور ظلم و بربریت کی مذمت کرتے ہوے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی جہدوجہد آزادی میں قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی نظر بند حریت قیادت سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک،شبیر شاہ، آسیہ اندرابی ، مسرت عالم اور دیگر قائدین کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان گرفتار قائدین کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔انہیں International Protected Personalitiesقراردیا جائے۔
اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے سیز فائر لائین پر ہندوستان کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیوں ، سویلین آبادی اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کے عمل کی بھرپور مذمت کی اور اس کو بین الاقوامی قانون کی سینگین خلاف ورزی قرار دیا ۔ اجلاس نے سیز فائر لائن پر بسنے والے عوام کی قربانیوں کو دلیری ، عزم و حوصلہ کو خراج تحسین پیش کیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ساری قیادت کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کو تجاویز بند لفافے میں ارسال کی جائیں گی ۔اجلاس نے ریاست جموں و کشمیر کی تمام اکائیوں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان ، لداخ، اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مؤثر رابطہ پر اتفاق کیا گیا اوراس امرپراتفاق کیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کی سالمیت ، وحدت اور تشخص پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیاکہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی آ ل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔اجلاس میں ٥ اگست کے بعد وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی جانب سے اٹھاے گئے اقدامات کی مکمل حمایت کرتے ہوے تمام سیاسی جماعتوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انہیں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اعلامیہ کے مطابق آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر حکومت اور آل پارٹیز حریت کانفرس کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جانا چاہیے جو کشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرے اور پالیسی ساز ادارے کے طورپر کام کرے۔ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے۔
آزاد حکومت کو تحریک آزادی کشمیر کے لئے مؤثر کردار ادا کرنے کے لئے زیادہ بااختیار بنایا جائے۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حق خودارادیت کی جہدوجہد جاری رکھی جائے گی اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے حریت پسند عوام کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادکشمیر کی ساری سیاسی قیادت حریت کانفرنس نے پانچ اگست کے بعد جس یکجہتی کا ثبوت دیا وہ لائق تحسین ہیں یہ چوتھی آل پارٹیز کانفرنس ہے تحریک آزادی کشمیر کے لیے بطور کارکن ساری سیاسی قیادت کے پیچھے چلنے کو تیار ہوں
سب سے مشاورت کے بعد متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینگے یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی فیصلے کریںمقبوضہ کشمیر کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم سیاسی معاملات کو پس پشت رکھیں مقبوضہ کشمیر کے اندر جو حالات نہیں وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہمیں اپنی جدوجہد تیز کرنے کی ضرورت ہے آزادکشمیر کی ساری سیاسی قیادت مقبوضہ کشمیر کے اندر محکوم ،محصور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ان کے دکھ درد تکالیف کو ہم اپنے دکھ او تکلیفیں سمجھتے ہیں ان سے لاتعلق قطعی طورپر نہیں رہ سکتے ۔کشمیریوں نے آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں ،حریت قیادت نے جو مصائب و مشکلات برداشت کیں اس کا تصور بھی محال ہے وادی کو عملا جیل بنا دیا گیا ہے ہندوستان دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے مگر اس میں ناکام ہو گا ۔حکومت ،ہر سیاسی جماعت ،سول سوسائیٹی اور بحثیت شہری ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس نازک مرحلے میں اپنا کردار ادا کریں ۔