ایران میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے نماز جمعہ کے اجتماعات منسوخ کردیے۔ایران کے وزیر صحت سعید نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعے کے مذہبی اجتماعات منسوخ کردیے گئے ہیں تاہم مقدس مقامات کے لیے آنے والے زائرین کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہوگا۔وزیر صحت نے کہا کہ زائرین کے لیے ضروری ہوگا کہ مقدس مقامات (مزارات) میں آنے سے قبل وہ جراثم کش صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں اور ماسک پہنیں۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ ‘شہری گروہ کی صورت میں کہیں جمع نہیں ہوں گے اس لیے عبادت کریں اور فوراً چلیں جائیں’۔وزیر صحت نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں اسکول مزید 3 دن جبکہ یونیورسٹی اگلے ہفتے تک بند رہیں گیں۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اقدامات عارضی ہیں اور جیسے ہی حالات مختلف ہوں گے مزید ہدایات جاری کردی جائیں گی۔
واضح رہے کہ عالمی ماہرین نے ایران میں کورونا وائرس سے متعلق اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ صورتحال بہتری کی جانب ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘ممکن ہے کہ تمام حکامات واپس لے لیے جائیں یا پھر مزید سخت کردیے جائیں’۔
خیال رہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے تاحال 26 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں 7 اموات ریکارڈ کی گئیں۔علاوہ ازیں وزارت کے ترجمان نے بھی تصدیق کی کہ مزید 106 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ مجتبیٰ زولنور بھی نئے کورونا وائرس کے شکار ہیں۔ایرانی حکام نے ملک بھر میں کانسرٹ اور فٹ بال میچز پر پابندی لگا دی اور متعدد صوبوں میں اسکول اور جامعات کو بند کردیا۔
حکام نے عوام کو غیر ضروری طور پر گھر سے نہ نکلنے سے ہدایت کی۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قم میں کورونا وائرس سے 2 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس حوالے سے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ایران سے کورونا وائرس سے متعلق حقائق ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ امریکا، ایران کے اندر کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے متعلق تشویش ہے۔
علاوہ ازیں مائیک پومپیو نے چین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ بیجنگ نے کورونا وائرس کے متاثرین کی معلومات دینے سے میڈیا پر پابندی لگادی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘تمام ممالک بشمول ایران کورونا وائرس کے بارے میں حقائق منظر عام پر لائیں اور عالمی معاون تنظیموں سے تعاون کریں



