حکومتی ہٹ دھرمی نے کشمیر کاز کو بھی متنازعہ بنا دیا ،اپوزیشن کی مخالفت شہریار آفرید ی کثرت رائے سے چئیرمین منتخب،پہلی بار حکومت اور اپوزیشن میں اس معاملے پر اتفاق رائے نہ ہوسکا

 

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ممبران کی شدید مخالفت کے باوجود وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفرید ی کثرت رائے سے پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے نئے چئیرمین منتخب ہوگئے ہیں اور ان کی کامیابی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ پہلی بار کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کا انتخاب اتفاق رائے سے نہیں ہوسکا ۔کشمیر کمیٹی کا اجلاس بدھ کو ہواجس میں چئیرمین کا انتخاب کیا جانا تھا ۔ تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیئرمین کمیٹی کے لیئے شہریارخان آفریدی کے نام پر اتفاق رائے نہ ہو سکا جس کے باعث اپوزیشن ارکان نے احتجاجا کمیٹی اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔ ، رکن کمیٹی ثنا اللہ خان مستی خیل نے شہریار خان آفریدی کا نام چیئرمین کمیٹی کے لیئے تجویز کیا ، تاہم حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کمیٹی کے درمیان چیئرمین کمیٹی کے لیئے شہریار خان آفریدی کے نام پر اتفاق رائے نہ ہو سکا جس کے باعث اپوزیشن ارکان کمیٹی نے احتجاجا کمیٹی سے واک آئوٹ کر دیا تاہم کثرت رائے سے شہریار خان آفریدی کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔شہریار آفرید ی نے نو کے مقابلے میں گیارہ ووٹ حاصل کئے اور چئیرمین منتخب ہوگئے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن اراکین کا موقف تھا کہ شہریار آفرید ی وزیر بھی ہیں اور وہ وزارت کے ساتھ ساتھ کیسے کشمیر کمیٹی کو چلائیں گے۔ اگر وزیر کو ہی چئیرمینی دینی تھی تو پھر فخر امام کے پاس ہی رہنے دیتے ۔ یادر ہے کہ کشمیر کمیٹی کے سابق چئیرمین سید فخر امام نے آٹھ اپریل کو وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد کشمیر کمیٹی کی چئیرمین شپ اور رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور شہریار آفرید ی کو ان کی جگہ کمیٹی کا نیا ممبر بنایا گیا تھا۔ اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث پہلے بھی کشمیر کمیٹی کا اجلاس ملتوی کیا جاتا رہا ہے۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے اجلاس سے واک آئوٹ کے بعد سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیاں ہمارے لئے بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، ہر پارلیمانی روایت کو حکومت توڑ رہی ہے،مجبورا پارلیمانی کشمیر کمیٹی سے واک آئوٹ کرنا پڑا،کشمیر کمیٹی اہم ترین ہے لیکن حکومت پارلیمان کو تباہ کرتی جارہی ہے،سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ حکومت چیئرمین کشمیر کمیٹی جیسے اہم ترین عہدے کے لئے اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکی،مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین کشمیر کمیٹی پر اتفاق پیدا کریں، کشمیر کمیٹی ہمیشہ حکومت کی صوابدید پر بنتی ہے لیکن اتفاق پیدا ہونا ضروری ہے،موجودہ حکومت پارلیمان کو اہمیت ہی نہیں دیتی، یہی کشمیر کمیٹی میں کیا گیا۔یاد رہے کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کا انتخاب اتفاق رائے سے نہیں ہو سکا ہے۔