وفاقی بجٹ کا خلاصہ بی بی سی کی نظر میں

 

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دورِ حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کیا ہے جو 34 کھرب 37 ارب خسارے کا بجٹ ہے۔
اس بجٹ کا کُل تخمینہ 65 کھرب 73 ارب روپے ہے جس میں سے ایف بی آر ریوینیو 49 کھرب 63 ارب روپے ہے جبکہ غیر ٹیکس شدہ ریوینیو 16 کھرب 10 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پینشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں رکھی گئی رقم میں ایک اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہے۔
رواں مالی سال دفاعی بجٹ 12 کھرب 89 ارب روپے کا ہے جو گذشتہ برس سے 11 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ ہے
کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ملک میں ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام یا پی ایس ڈی پی کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس سال ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 49 کھرب 63 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
گذشتہ سال بجٹ میں احساس پروگرام کے لیے 187 ارب روپے رکھے گئے تھے جسے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس میں سماجی تحفظ کے دیگر پروگرام جیسے بینظیر انکم سپورٹ، پاکستان بیت المال وغیرہ شامل ہیں۔