
اسلام آباد:جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قراردیئے جانے کے عدالت عظمی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی فیصلے میں حکومت پر کوئی الزام نہیں ہے۔جمعہ کو عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس ے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ‘سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے مطمئن ہیں اور یہ بڑا احسن فیصلہ ہے’۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ ‘ہم شروع دن سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ججز کے معاملات صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو دیکھنے چاہیے جو ایک آئینی ادارہ ہے’۔شہزاد اکبر نے کہا کہ ہمیں اس معاملے میں صرف یہ وضاحت دینی تھی کہ عدالتی فیصلے میں حکومت پر کوئی الزام نہیں ہے’۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ ‘جس دن ریفرنس بنا کر پیش کردیا اس کے بعد سے حکومتی کام ختم ہوجاتا ہے، اس کے بعد یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کانسل اور متعلقہ ججز کے درمیان ہوتاہے’۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 ماہ کے دوران مذکورہ معاملے پر کوئی رائے قائم نہیں کی گئی جبکہ متعدد سوالات اٹھائے گئے، ان سوال کے جوابات تھے لیکن ریفرنس پر سماعت جاری تھی اور ریفرنس انتہائی حساس تھا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کسی کی ہار اور کسی کی جیت کا رنگ دیا گیا، یہ ہرگز کسی کی جیت ہے اور نہ ہی ہار ہے، یہ وہ عمل ہے جو جمہوری معاشرے میں مکمل ہوتا ہے، کسی اور رنگ میں پیش کرنا قابل افسوس ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد رپورٹنگ میں بدنیتی کا لفظ استعمال کیا گیا، بعض وکلا دوستوں نے متنازع بات کی لیکن 13 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلے میں کہیں بھی ‘بدنیتی’ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ‘تفیصلی فیصلہ ہمارے لیے باعث رہنمائی ہوگا، ملک کے بڑے وکلا سماعت میں شریک تھے، سب نے عدالت سے تعاون کیا اور آخر میں عدالت نے بھی وکلا سے اظہار تشکر کیا’۔



