کرونا وائرس نے چین کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کو بھی شدید متاثر کیا

 

چین اس وقت رواں صدی کے سب سے بڑے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت ایشیا، افریقہ، یورپ سمیت دنیا کے 70 ممالک کو وہ ریل کے نظام، بحری اور زمینی راستوں سے جوڑ دینا چاہتا ہے۔تاہم چین نے تسلیم کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹوبی آر آئی کا 20 فیصد حصہ ‘شدید متاثر’ ہوا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وبا کی وجہ سے ایشیا، یورپ اور اس سے آگے کے ممالک کو جوڑنے کے لیے چین کا بی آر آئی منصوبے کا 20 حصہ متاثر ہوا ہے۔
وزارت بین الاقوامی اقتصادی امور کے محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل وانگ ژا لونگ نے بیجنگ میں ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ وزارت کے ایک سروے کے مطابق تقریبا 40 فیصد منصوبوں پر کچھ کم منفی اثر پڑا ہے جبکہ 30 سے 40 فیصد منصوبے کسی حد تک متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تقریبا 20 فیصد منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ سروے کے نتائج توقع سے بہتر رہے اور اگرچہ کچھ منصوبوں کو روک دیا گیا تھا لیکن چین نے کسی بڑے منصوبوں کے منسوخ ہونے کے بارے میں نہیں سنا تھا۔
100 سے زائد ممالک نے چین کے ساتھ بی آر آئی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ بی آر آئی کے منصوبوں جیسے ریلوے لائن، بندرگاہوں، شاہراہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے میں تعاون کریں گے۔
ریفینیٹیو ڈیٹا بیس کے مطابق 2 ہزار 600 منصوبے37 کھرب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سفری اور سرحدوں کے پار سامان کی ترسیل پر پابندی سمیت کووڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے مقامی اقدامات کی وجہ سے منصوبوں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق صورتحال بہتر ہونے پر ہمیں یقین ہے کہ منصوبے واپس آجائیں گے اور ان پر عمل درآمد تیز ہوگا۔
بی آر آئی منصوبوں کو وبائی بیماری کے علاوہ اس وقت دھچکا لگا جب 2018 میں انڈونیشیا، ملائیشیا، سری لنکا اور دیگر ممالک کے عہدیداران نے منصوبوں کو مہنگا اور غیر ضروری قرار دیا۔اخراجات، خودمختاری کے خاتمے اور بدعنوانی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد ممالک نے منصوبوں کا جائزہ لینے، منسوخ کرنے یا انہیں مختصر کرنے کا کہا تھا۔
چین اس وقت رواں صدی کے سب سے بڑے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت ایشیا، افریقہ، یورپ سمیت دنیا کے 70 ممالک کو وہ ریل کے نظام، بحری اور زمینی راستوں سے جوڑ دینا چاہتا ہے۔
ون بیلٹ، ون روڈ بنیادی طور پر 2 حصوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک پرانی شاہراہ ریشم کے زمینی راستے کو دوبارہ بنانا ہے جبکہ روڈ، درحقیقت کوئی شاہراہ نہیں بلکہ یہ متعدد سمندری راستوں کا ایک روٹ ہے۔
شاہراہ ریشم ایسا قدیم زمینی راستہ تھا جو یورپ و ایشیا کے تاجروں اور سیاحوں کو چین، ایران اور رومن سلطنت سے جوڑتا تھا، تاجر اس راستے سے ریشم اور دیگر اجناس کو اونٹوں یا گھوڑوں پر لاد کر ایک سے دوسرے ملک تک لے جاتے تھے۔
چین نے اب جو نئی شاہراہ ریشم کا منصوبہ بنایا ہے، وہ کئی اقتصادی راہداریوں اور ایک بحری شاہراہ ریشم پر مشتمل ہے جبکہ اس سے ہٹ کر گیس پائپ لائن، آئل پائپ لائن، ریل روڈ اور دیگر منصوبے بھی اس کا حصہ ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک کے تناظر میں اس کا مقصد چین کی ریاست سنکیانگ سے گودار بندرگاہ، ریلوے اور موٹروے کے ذریعے تجارتی سامان کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے، یہ اقتصادی راہداری 2442 کلومیٹر طویل ہوگی اور اس کی ابتدائی لاگت تو 46 ارب ڈالرز لگائی گئی تھی مگر اب یہ 60 ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے۔