سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدلیہ کی فتح اور حکومت کی شکست قرار دیا ہے۔
سینیئر صحافی اور ڈان نیوز کے اینکر پرسن فہد حسین نے عدالتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ہر حوالے سے تاریخی فیصلہ ہے اور موجودہ حکومت کی بہت بڑی شکست ہے، کیونکہ ریفرنس کے حوالے سے حکومتی وکیل نے جو دلائل اور منطق پیش کی تھی اسے عدالت نے مسترد کیا ہے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ جس طریقے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بنایا گیا، جو شواہد پیش کیے گئے اور جو الزامات لگائے گئے وہ تمام غلط تھے اور ان کی کوئی قانونی وقعت نہیں تھی۔’
نجی چینل ‘جیو نیوز’ پر سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے ریفرنس کالعدم قرار دینے سے متعلق کہا کہ بدنیتی اور غلط فہمی 2 الگ چیزیں ہیں، ٹھوس شواہد موجود ہوں تو بدنیتی ہوتی ہے اور غلط فہمی بالکل ہوسکتی ہے کیونکہ یہاں ظاہری طور پر جائیدادیں ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو قانون کا ادراک اس طرح سے تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ اثاثے ظاہر نہ کریں تو یہ مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے لیکن جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بیان دیا کہ ان جائیدادوں سے جج صاحب کا کوئی تعلق نہیں تو سپریم کورٹ نے یہ بہتر سمجھا کہ ریفرنس کی بنیاد جس چیز کو بنایا گیا ہے وہ خود بخود ختم ہوگئی چنانچہ ریفرنس کو کالعدم قرار دیا ہے۔
سینئر صحافی حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے مختلف ٹوئٹس میں کہا کہ آخر کار سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو مسترد کردیا جو آزاد عدلیہ کی فتح اور ان کی شکست ہے جنہوں نے صرف اس لیے ایک جج کی تذلیل کی کوشش کی کیونکہ انہوں نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھا تھا۔
صحافی ضرار کھوڑو نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘فیصلے میں جشن منانے والی کوئی بات نہیں ہے، تفصیلی فیصلہ شاید ان ذہینوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوگا جنہوں نے سوچا تھا کہ یہ اچھا خیال ہے۔
‘


