کرونا لاک ڈائون کے بعد دنیا کو اندازہ ہوگیا ہے کہ لاک ڈائون میں رہنا کتنا مشکل ہے،کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر آن لائن ویبنار سے مقررین کا خطاب


اسلام آباد:کرونا لاک ڈائون کے بعد دنیا کو اندازہ ہوگیا ہے کہ لاک ڈائون میں رہنا کتنا مشکل ہے۔کشمیر کے لوگ دنیا کا طویل ترین لاک ڈائون بھگت رہے ہیں۔کرونا وباء کی آڑ میں ہندوستان کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کررہاہے حاملہ عورتوں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے کشمیر یوتھ الائنس کے زیراہتمام مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر آن لائن ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کا موضوع تھا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری نوجوانوں پربڑھتے ہوئے مظالم اورکوڈ19- بحران کے خطرات اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ۔اس سلسلے میں پہلا ویبنار گزشتہ روز منعقد کیا گیا جس میں رکن قومی اسمبلی وممبر کشمیر کمیٹی نورین فاروق ابراہیم ،صدر کشمیر یوتھ الائنس ڈاکٹر مجاہد گیلانی،سعد ارسلان صادق،مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتون کشمیری رہنما شائستہ صفی،کاشف ظہیر،طہ منیب ،رضی طاہر ،نوید احمد،کشمیر ایکٹوسٹ ثاقب ریاض، سمیت پاکستان اور بیرون ملک سے نوجوانوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی ۔آن لائن ویبنار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ممبر کشمیر کمیٹی نورین فاروق ابراہیم،شائستہ صفی،ڈاکٹر مجاہد گیلانی ودیگر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حاملہ عورتوں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ہندوستان کرونا کی آڑ میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے ۔بھارتی فوج نوجوانوں کو گھروں سے نکال کر والدین کے سامنے شہید کررہی ہے۔ہندوستان سمجھتا ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں پر تشدد وبربریت سے آزادی کی آواز کو دبا لے گا لیکن ہندوستان یاد رکھے کشمیر کا ہر بچہ سید علی گیلانی اور ہر بیٹی آسیہ اندرابی ہے ۔کشمیر ی نوجوان ماسٹر اور پی ایچ ڈی تعلیم حاصل کرنے کے بعدآزادی کیلئے جان قربان کررہے ہیں تو کشمیری لڑکیاں پتھر لے کر بھارتی افواج کے مدمقابل ہیں۔انہوں نے کہا کشمیر کے نوجوان آزادی کی صبح تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔