اسلام آبادڈائیگناسٹک سنٹرکی کرونا کی متضاد رپورٹیں شہری عدالت چلا گیا

 

اسلام آباد:سول جج اسلام آباد محترمہ ارم حفیظ کی عدالت نے کرونا وائرس سے متعلق ایک ہی لیبارٹری سے اوپر نیچے کرائے گئے پی سی آر ٹسٹ کی رپورٹیں الگ الگ آنے پر متاثرہ شہری کی جانب سے اسلام آباد ڈائیگناسٹک سنٹر کے چیف ایگزیکیٹیو ڈاکٹر رضوان اپل کے خلاف دائر کئے گئے ایک کروڑ روپے حرجانہ کے دعوی کی سماعت کے دوران جواب گزار کی جانب سے جواب داخل کروانے کی مہلت دینے کی استدعا منظور رکرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 19ستمبر تک ملتوی کردی ۔ عدالت نے موضع ملوٹ کے رہائشی محمد شبیر خان عباسی کے ایک کروڑ روپے کے دعوی کی سماعت کی توجواب گزار ڈاکٹر رضوان اپل کے وکیل نے پیش ہوکر میمو جمع کروایا اور جواب داخل کروانے کے لئے مہلت طلب کی ،یاد رہے کہ درخواست گزار محمد شبیر خان عباسی نے عدالت میںدائر کئے گئے دعوی میں موقف اختیار کیا ہے کہ مجھے اپنی بیٹی سے ملاقات کے لئے انگلینڈ جانا تھا اور جہاز کے سفر کا بنیادی تقاضہ پورا کرنے کے لئے 31مئی 2020 کو اسلام آباد ڈائیگناسٹک سنٹر میں بھاری فیس دیکر اپنا کرونا کا پی سی آر ٹسٹ کروایا اورجب رپورٹ آئی تو اس پر لکھا تھا ”Detected”اس رپورٹ سے میرے خاندان اور عزیز واقربا میں سخت خوف و حراس پھیل گیا ،جس پر میں نے شک کی بنا پر اسی روز ہی معرف انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد میں بھی بھاری فیس دیکر اپنا پی سی آر کا ٹسٹ کروایا تو ان کی رپورٹ کے مطابق وہ منفی آیا ،دوسری جانب اسلام آباد ڈائیگناسٹک سنٹر انتظامیہ نے نہ صرف مجھے غلط ٹسٹ رپورٹ دی تھی بلکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد کو بھی بھجوا دی تھی ،جس کے عملہ نے نہ صرف مجھے 14روز کے قرنطینہ کی ہدایت کی بلکہ میرے خاندان ،عزیز واقربا اور جن جن دوستوں سے ملا تھا سب کے ٹسٹ لینے کے نمونے لینے کی بھی بات کی ،تاہم معرف ہسپتال کی منفی رپورٹ آجانے پر وہ رپورٹ بھجواکرانہیں چپ کروایا تھا،اگلے روز یعنی یکم جون کو میں نے اسلام آباد ڈائیگناسٹک سنٹر جاکر عملے کو جب معروف ہسپتال کی رپورٹ دکھائی تو انہوںنے مجھ سے پہلے والی رپورٹ لیکرچھپا دی اورانہوںنے دوبارہ میرا سیمپل لیا اور رپورٹ دی کہ ”Not Detected”اور اس پر جان بوجھ کر بدنیتی سے یکم جون کی بجائے 31مئی 2020 کی تاریخ ڈال دی ،مسول علیہ کی لیبارٹری کے عملہ کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے درخواست گزار کو جہاں ذہنی پریشانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا وہیں پر ا مکانی قرنطینہ یا کرونا وائس کا شکار ہونے کے خوف سے اس کا سارا خاندان اور عزیز واقربا بھی دو روز تک سخت پریشان رہے تھے،درخواست گزار نے فاضل عدالت سے انصاف کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے اس مجرمانہ غفلت و لاپرواہی پر مسول علیہ ڈاکٹر رضوان اپل کے خلاف ایک کروڑ روپے کی ڈگری جاری کرنے اور جرمانہ کرنے کی استدعا کی ہے