اراضی کے مالک کا انتظامیہ کے ساتھ ریٹ پر پرانا اختلاف ہے ، سوسائٹی کے ایک حصہ پر مالک اراضی اور سوسائٹی انتظامیہ کے درمیان مقدمہ بازی کی وجہ سے معاملات التواء کا شکارہیں اراضی کے مالک کا انتظامیہ کے ساتھ ریٹ پر پرانا اختلاف ہے ، سوسائٹی کے ایک حصہ پر مالک اراضی اور سوسائٹی انتظامیہ کے درمیان مقدمہ بازی کی وجہ سے معاملات التواء کا شکارہیں
اسلام آباد:قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے اسلام آباد کی جموں وکشمیر ہائوسنگ سوسائٹی جی 14 فور سے متعلق مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں صلاح الدین، شگفتہ جمانی اور دیگر ارکان کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری داخلہ شوکت علی نے ایوان کو بتایا کہ جموں وکمشیر کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی30 سال قبل شروع ہوئی تھی لیکن تنازعہ کی وجہ سے الاٹیوں کو الاٹمنٹ نہ ہوسکی ہے۔ تصفیہ کے حل کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1996ء میں یہ سوسائٹی لانچ کی گئی۔ اس میں سب سیکشن بنائے گئے۔ تین پرکام مکمل ہے۔ لوگوں نے گھر بنا دیئے ہیں۔ جی 15 فورمیں ایشو سامنے آیا۔ اراضی کے مالک کا انتظامیہ کے ساتھ ریٹ پراختلاف تھا۔ انتظامیہ اور اراضی کے مالک کے درمیان 63 ہزار سے لیکر12 لاکھ 50 ہزار روپے کنال پراتفاق ہواتھا،اس وقت اراضی کامالک 50 لاکھ روپے فی کنال ڈیمانڈ کررہاہے،انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں ایک کیس عدالت میں بھی زیرسماعت ہے۔ انشاء اللہ اسے جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ شگفتہ جمانی نے کہاکہ 2002ء میں جموں و کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کے پلاٹ کے لئے پیسے دیئے تھے آج تک ہمیں پلاٹ نہیں ملے ہیں۔ 15 سال بعد لیٹر بھیجا گیا کہ مزید پیسے جمع کرائیں تو پلاٹ ملیں گے۔ اس میں ہمارے پیسے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ سپیکر کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ پارلیمانی سیکرٹری داخلہ شوکت علی نے کہاکہ سوسائٹی کے ایک حصہ پر مالک اراضی اور سوسائٹی انتظامیہ کے درمیان مقدمہ بازی کی وجہ سے معاملات التواء کا شکارہیں۔ نیب بھی اس سوسائٹی کے معاملات کا جائزہ لے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


