اسلام آباد ہائی کورٹ کا رحمان ملک کیخلاف سنتھیا رچی کی اندراج مقدمہ درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم،وزارت داخلہ کی جانب سے سنتھیا ڈی رچی سے متعلق واضح حکم جاری نہ ہونے پر اظہار برہمی

وزرات داخلہ کی کیا پالیسی ہے؟ کیا بیرون ملک سے آکر کوئی بھی یہاں کچھ بھی کرتا رہے؟ کسی کو فکر ہی نہیں،کل کوئی اور بزنس ویزے پر آکر وزیراعظم کیخلاف بیانات دے تو اسے بھی چھوڑ دیں گے؟جسٹس اطہر من اللہ کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار

اسلام آباد: امریکی بلاگر سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کی جانب سے سنتھیا ڈی رچی سے متعلق واضح حکم جاری نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وزرات داخلہ کی پالیسی کیا ہے؟ کیا بیرون ملک سے آکر کوئی بھی یہاں کچھ بھی کرتا رہے؟ کسی کو فکر ہی نہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سنتھیا نے وزارت داخلہ کے سامنے بیان میں کہاوہ پاکستان میں کسی سرکاری ادارے سے منسلک نہیں رہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سنتھیا موجودہ حکومت کے خلاف بھی بیانات دے تو پالیسی یہی ہو گی؟چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزارت داخلہ کے نمائندے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا یہ آپ نے کیا آرڈر جاری کیا ہے؟کیا کوئی قانون یا پالیسی نہیں ہے؟ کیا آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جو بتائے کہ غیر ملکیوں کو ویزے کی کیا پالیسی ہے؟کل کوئی اور بزنس ویزے پر آکر وزیراعظم کیخلاف بیانات دے تو اسے بھی چھوڑ دیں گے؟ عدالت نے رحمان ملک کیخلاف سنتھیا رچی کی اندراج مقدمہ درخواست دوبارہ سن کر فیصلے کا حکم دے دیا۔ ماتحت عدالت کو بھی سنتھیا رچی کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے نے سنتھیا ڈی رچی کو سیاسی شخصیات کیخلاف بیانات سے روک دیا اس کے ساتھ عدالت نے وزارت داخلہ سے بزنس ویزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ وزارت داخلہ آئندہ سماعت پر ریکارڈ کیساتھ مطمئن کرے درخواست گزار چودھری افتخار کی جانب سے لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔سماعت بائیس ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔