
لاہور:
لاہور میں موٹروے پر سفر کے دوران خاتون کے ساتھ اس کے بچوں کے سامنے ریپ کرنے کے واقع کے بعد وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے چہیتے سی پی او لاہو ر عمر شیخ جنہیں حال ہی میں آئی جی پنجاب شعیب دستگیر پر فوقیت دی گئی تھی ان کے اس مبینہ بیان نے ہلچل مچا دی ہے۔
جس میں عمر شیخ نے کہا ہے کہ لاہورموٹروے میں جس خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے انہیں اکیلے موٹر وے پر سفر نہیں کرنا چاہئے تھا ، خاتون 3 بچوں کی ماں ہے تو بچوں کے ساتھ سفر کیلئے کسی کو ساتھ رکھنا چاہئے تھا یہ جی ٹی روڈ استعمال کرتی جہاں پٹرول پمپ اور شہری آبادی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور کالا شاہ کاکو کے قریب خاتون کے ساتھ ان کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔ خاتون رات کے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کیلئے بچوں کے ہمراہ روانہ ہوئی ، خاتون کو تنہا موٹروے کا سفر نہیں کرنا چاہئے تھا خاتون کوجی ٹی روڈ استعمال کرنا چاہئے تھا ،خاتون نے سفر سے پہلے پٹرول کیوں چیک نہیں کیا جبکہ جس جگہ و اقعہ پیش آیا موٹر وے پولیس اس ہائی ویز پر تاحال تعینات نہیں ہوتی ہے ۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔درندہ صفت دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔متاثرہ خاتون لاہور سے گوجرانوالا جا رہی تھیں اور کار کا پیٹرول ختم ہونے پر کار موٹروے پر کھڑی تھی۔
دوسری جانب ترجمان موٹروے نے جائے وقوع کو موٹر وے کی حدود سے باہر قرار دیا ہے اور کہا کہ اس واقعہ سے موٹر وے پولیس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
ان کے اس بیان میں ہر طرف سے شدید ردعمل آیا ہے اور ان کے اس بیان نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ کس طرح کے افسران بزدار حکومت کی ترجیحات ہیں۔
ڈولفن اہلکار جو سب سے پہلے اس خواتین تک پہنچے ان کا کہنا ہے کہ زیادتی کی شکار خاتون کو دیکھ کر ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
ایسٹرن بائی پاس پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے کیس کے حوالے سے 15 پر کال کے بعد موقع پر پہنچنے والے ڈولفن اہلکار کا کہنا ہے کہ خاتون کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے وہ بہت پریشان تھی۔ڈولفن اہلکار علی عباس نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 15 پر 2 بج کر 49 منٹ پرکال موصول ہوئی تھی۔
علی عباس کے مطابق موقع پر پہنچے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس میں کوئی نہیں تھا۔ ٹارچ جلائی تو بچے کا جوتا نظر آیا، کھائی میں اترے تو دوسرا جوتا نظر آیا۔ اندھیرا بہت تھا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ڈوالفن اہلکار نے مزید بتایا کہ اس نے آواز لگائی کہ کوئی ہے، اور 6 ہوائی فائر کیے۔ نیچے اترے تو خاتون کے منہ سے بھائی کا جملہ نکلا۔ڈولفن اہلکار کے مطابق پاس گئے تو خاتون نے بچوں کو حصار میں لیا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے وہ بہت پریشان تھی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ موٹرے پر اجتماعی زیادتی و بے حرمتی کے واقعہ کا سن کر دل دہل گیا ہے،ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچا کر عبرت بنانا لازم ہے۔۔مریم نواز نے کہا کہ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے، یاد رکھیں ظلم اور معاشرتی اقدار میں پستی کا مقابلہ کرنا بحیثیت قوم ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
سی سی پی او لاہور کے بیان پر حکومتی وزیر بھی مخالفت میں بول پڑیاور کہاکہ سی سی پی او کو شرم آنی چاہیے!خواتین رات 3بجے بھی نکل سکتی ہیں،سی سی پی او ذمہ داری نہیں نبھا سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں۔
ریاست کا کام شہریوں کا تحفظ ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب کاکہناہیکہ خاتون سے زیادتی کے واقعہ کی مکمل تحقیقات ہوںگی، ملزموں کو جلد گرفتارکرکے منطقی انجام تک پہنچائینگے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور کی جانب سے موٹر وے ریپ کیس میں دیے گئے بیان پر آگ بگولہ ہوگئے اور کہا کہ سی سی پی او کو شرم آنی چاہیے، اگر سی سی پی او اپنی ڈیوٹی نہیں کرسکتا تو اسے اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
سی سی پی او کو کسی نے اجازت نہیں دی کہ وہ اس طرح کے بیان دیں، انہیں کیا معلوم خاتون کیوں نکلیں، ہوسکتا ہے انہیں کوئی کام ہو، رات کے 12 نہیں 3 بجے بھی لوگ نکلیں گے، ریاست کا کام ہے ان کا تحفظ کرنا، سی سی پی او اگر اپنا کام نہیں کرسکتے تو عہدہ چھوڑ دیں لیکن غلط باتیں نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سب کا ہے اور ہر پاکستانی کسی بھی وقت گھر سے باہر نکل سکتا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے گجرپورہ میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واقعے کے حوالے سے فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی۔
ادھر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شاہراہوں کومحفوظ رکھناحکومتی ذمہ داری ہے، جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں،واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ، اندوہناک واقعہ میں ملوث سخت سزا کے مستحق ہیں،یقین ہے کہ آئندہ چند روز میں جرائم میں کمی واقع ہو گی۔
سی سی پی او عمر شیخ کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو جلد ازجلد قانون کے کٹہر ے میں لایا جائے،شہزاد اکبر نے کہا کہ واقعہ سے متعلق سی سی پی او کے بیان کاغلط مطلب نکالا گیا،ان کے بیان کو خواہ مخواہ متنازع بنایا جا رہا ہے
پولیس ذرائع کے مطابق زیادتی کا شکار خاتون کا میڈیکل کوٹ خواجہ سعید اسپتال سے کرایا گیا جس میں خاتون سے زیادتی ثابت ہو گئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہیکہ تین کھوجیوں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے 5 کلومیٹر علاقے میں سرچ اینڈ سوئپ آپریشن کیا جس میں 20 کے قریب مشتبہ لوگوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی گئی جب کہ 7 افراد کا ڈی این اے بھی کرایا گیا۔
پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایسٹرن بائی پاس پر جس جگہ خاتون کی گاڑی کھڑی تھی وہاں کوئی باڑ نہیں تھی، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے بھی کوئی مدد نہیں ملی تاہم تین مقامات کی جیو فینسنگ کرکے ریکارڈ یافتہ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایف آئی آر کیمطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریبا ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔
کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔
جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔
ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئیاور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوں نے خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔
خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے ۔ خاتون کی طبی ملاحظے کی رپورٹ فرانزک کے لیے بھجوا دی گئی ہے جبکہ خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔


