علماء کرام نے زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی تجویز مسترد کر دی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شرعی سزایں موجود ہیں،ایسی کوئی سزا قابل قبول نہیں ہے جو قرآن و حدیث میں نہ ہو، مولانا عبدالخبیر

اسلام آباد: سانحہ موٹرے وہے کے بعد جہاں اس وقت پورا معاشرہ سخت غصے میں ہے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کی باتیں ہورہی ہیں وہیں علماء نے زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی تجویز مسترد کر دی۔ مہتمم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے قانون کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شرعی سزایں موجود ہیں۔ایسی کوئی سزا قابل قبول نہیں ہے جو قرآن و حدیث میں نہ ہو۔بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبد الخبیر نے کہا کہ اسلام میں خواتین سے زیادتی کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا کہا گیا ہے۔اس لیے سانحہ موٹروے کے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سے سخت سزا دی جائے۔علماء کرام کے مطابق شریعت میں زیادتی کے مرتکب شادی شدہ افراد کو عوام کے سامنے سنگسار جب کہ غیر شادی شدہ افراد کو 100 کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے زیادتی کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے لیے قانون لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے لیے قانون لانے کی منظوری دے دی ہے جسکے بعدقانونی ٹیم نے بل کے مسودے پر کام شروع کردیا ہے،بل میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے کی سزا تجویز کی جائے گی۔اگر پاکستان میں زیادتی کے مجرمان کو ‘نامرد’ بنانے کا بل منظور ہو جاتا ہے تو پاکستان یہ سزا دینے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔یہ عمل جراحی کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔