
اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما عبدالغفور حیدری نے مولانا فضل الرحمان کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی مارچ کے دوران جنرل باجوہ نے خود ملاقات کی دعوت دی تھی۔

سما ٹی وی کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے عبدالغفور حیدری نے کہا کہ آزادی مارچ شروع ہونے سے قبل آرمی چیف نے ملاقات کی دعوت دی تھی۔ اس ملاقات میں اکرم درانی اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ وہ خود بھی موجود تھے۔عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جنرل باجوہ یا اس کی ٹیم سیاست دانوں کو بلائے بھی خود اور اس کو بلیک میلنگ کا باعث بھی بنائے۔ میں خود اس ملاقات میں تھا، مولانا صاحب اور اکرم درانی بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ جب ہمارا آزادی مارچ ہورہا تھا تو جنرل باجوہ نے خود ہمیں دعوت دی۔ جب وہاں ہم گئے تو انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ مولانا صاحب آپ آزادی مارچ نہ کریں۔ ہم میاں نواز شریف کے خلاف جو کچھ کر رہے ہیں۔ آپ اس میں مداخلت نہ کریں۔عبدالغفور حیدری نے کہا کہ دو گھنٹے کی ملاقات میں جنرل باجوہ مسلسل اصرار کرتے رہے کہ آپ آزادی مارچ نہ کریں۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ نے پیغام بھیجا تھا کہ آپ استعفی دے دیں ورنہ مارشل لا لگ جائے گا۔
مسلم لیگ نواز کے اجلاس سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ دھرنوں کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے پیغام بھیجا کہ استعفی دے کر گھر چلے جائیں۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے 2014 میں نواز شریف کی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا تھا۔ عمران خان اور طاہرالقادری دھرنے کے دوران مسلسل نواز شریف سے استعفی کا مطالبہ کرتے رہے مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔
نواز شریف نے کہا کہ مجھے آدھی رات کو ظہیرالاسلام کا یہ پیغام ملا اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اگر آپ استعفی نہیں دیں گے تو نتائج بھگتنا پڑیں گے اور مارشل لا بھی لگ جائے گا۔نواز شریف کے بقول میں نے کہا کہ جو ہونا ہے ہوجائے، آپ نے جو کرنا ہے کرلیں، میں اس طرح استعفی نہیں دوں گا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ بیان دیا جاتا ہے کہ سیاست میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اگر آپ سیاست میں مداخلت نہیں کر رہے تو کیا آپ نے غفور حیدری کے انکشاف کو مسترد کیا؟ آپ نے وضاحت کی کہ آپ نے مولانا فضل الرحمان سے یہ بات نہیں کہی۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما غفور حیدری نے گزشتہ دنوں سما ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ آزادی مارچ سے قبل جنرل قمر جاوید باجوہ نے مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کی دعوت دی تھی، جب ہم وہاں پہنچے تو آرمی چیف نے کہا کہ ہم نواز شریف کے خلاف جو کر رہے ہیں، آپ اس میں مداخلت نہ کریں۔
نواز شریف نے ان دو باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں نواز شریف کے خلاف یہ کارروائی کر رہے ہیں۔ مجھے پتہ لگنا چاہیے۔ آپ کیوں کر رہے ہیں، آپ کا تو یہ کام ہی نہیں ہے۔ آپ کا تو یہ پیشہ ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے سزا دینے کے چکر میں ملک ڈبو دیا گیا۔

دوسری جانب تجزیہ کار اور مصنف شجاع نواز نے کہا ہے کہ 2014 میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام نواز شریف کی حکومت گرا کر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
شجاع نواز کئی کتابوں کے مصنف اور سابق آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ کے بھائی ہیں۔ انہوں نے اپنی حالیہ کتاب بیٹل فار پاکستان میں بھی 2014 کے دھرنے اور آئی ایس آئی چیف کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔
بدھ کی شام سما ٹی وی کے پروگرام میں میزبان ندیم ملک سے گفتگو کرتے ہوئے شجاع نواز نے کہا کہ کہ پاکستان میں سابق امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ظہیر الاسلام سیاسی معاملات میں بہت متحرک تھے اور امریکی سفارت خانہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
شجاع نواز کے بقول میں نے رچڑڈ اولسن کا انٹرویو کیا جو پاکستان میں امریکی سفیر تھے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ جنرل ظہیر الاسلام سیاسی معاملات میں بہت سرگرم ہیں اور امریکی سفارتخانہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے اپنی کتاب سے رچڑڈ اولسن کے الفاظ پڑھ کر سنائے جنہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اطلاع موصول ہوئی کہ ظہیرالاسلام ستمبر 2014 میں بغاوت کے لئے سرگرم تھے۔ آرمی چیف راحیل شریف نے ظہیرالاسلام کو عہدے سے ہٹاکر اس بغاوت کے منصوبہ کو روکا۔ ظہیرالاسلام (بغاوت کیلئے) کور کمانڈروں اور ہم خیال فوجی افسران سے بات کر رہا تھا۔ وہ بغاوت کرنے کے لئے تیار تھا۔ اگر راحیل شریف آمادہ ہوجاتے تو بغاوت ہوجاتی مگر راحیل شریف آمادہ نہیں تھے۔ لہذا ایسا نہیں ہوا۔
شجاع نواز نے کہا کہ انہوں نے اپنی کتاب کے لئے کیے گئے انٹرویوز اور جو ثبوت انہوں نے دیکھے ہیں، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا آئی ایس آئی اور اس کے چیف اور دیگر اعلی افسران کی نگرانی کر رہا تھا۔



