
لاہور:موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔آئی جی پولیس انعام غنی کے مطابق عابد ملہی باپ سے ملنے گیا تو پکڑا گیا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے بتایا کہ عابد ملہی کی گرفتاری کے لیے 9 ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ عابد ملہی گرفتاری سے بچنے کے لیے مقامات بدلتا رہا، وہ فورٹ عباس، چنیوٹ، مانگا منڈی سمیت مختلف اضلاع میں گیا۔
انعام غنی نے بتایا کہ موٹر وے کیس میں ایک اور ملزم بالا مستری کو چند دن میں ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، بالا مستری نے عابد ملہی کو اطلاع کر دی تھی کہ اس کی تصویر ٹی وی پر چل رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹی وی پر تصویر چلنے کی اطلاع ملنے کی وجہ سے عابد ملہی کی گرفتاری میں تاخیر ہوئی، عابد ملہی کو مانگا منڈی سے پولیس نے گرفتار کیا۔ ملزم عابد کئی روز تک چنیوٹ میں ایک زمیندار کے ڈیرے پر روپوش رہا، ملزم کو اس کے سالے کے موبائل نمبر کی مدد سے ٹریس کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ عابد ملہی نے اپنے سالے کا موبائل استعمال کر نے کے بعد پھینک دیا تھا، جبکہ عابد کے والد اور بیوی کو پولیس نے چھوڑ دیا تھا۔آئی جی پنجاب انعام غنی نے یہ بھی بتایا کہ ملزم عابد مانگا منڈی اپنے باپ سے ملنے گیا تو پولیس ٹیم وہاں موجود تھی، ملزم عابد گھر میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوا تو پولیس نے اسے پکڑ لیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کا مرکزی ملزم عابد ملہی پیسے ختم ہونے پر اپنی بیوی سے ملنے گیا تو پکڑا گیا۔
عابد نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ شفقت اور بالا مستری تینوں واردات کے لئے گئے تھے بالا مستری راستے سے واپس چلا گیا ۔میں نے اور شفقت نے پہلے دو ٹرالی والوں کو لوٹا، اس کے بعد ہمیں موٹرو ے پر یہ گاڑی کھڑی نظر آئی جس کے انڈیکیٹر جل رہے تھے۔ جب ہم گاڑی کے پاس گئے تو شیشے بند تھے ہم نے خواتین کو شیشے کھولنے کا کہا تو وہ نہ مانی پھر ہم نے شیشے توڑ دئیے ۔ عابد نے بتایا کہ خاتون سے زیور ، موبائل اور نقدی چھیننے کے بعد میں نے اسے نیچے جانے کو کہا تو وہ نہ مانی ۔ اس دوران میں کے بچوں کو اٹھا کر نیچے لے گیا۔ وہ بچوں کو بچانے کے لئے ہمارے پیچھے آئی توہم نے اسے پکٹر کر زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ کچھ دیر بعد ٹائیگر فورس کے اہلکاروں نے آکر فائرنگ جس پر ہم فرار ہوگئے۔
ملزم نے بتایا کہ واردات کے بعد میں ننکانہ اور پھر بہاولپور چلا گیا۔ ایک مہینے کے دوران ماسک پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ میں مختلف شہروں میں پھرتا رہا۔ پیسے ختم ہونے پر بیوی سے رابطہ کیا تو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
یاد رہے کہ تھانہ گجرپورہ کی حدود سیالکوٹ موٹروے بائی پاس پر خاتون سے زیادتی کا واقعہ گزشتہ ماہ ستمبر میں پیش آیا تھا۔ متاثرہ خاتون لاہور سے اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی پر گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ پیٹرول ختم ہوگیا۔
خاتون نے مدد کیلئے موٹر وے اور مقامی پولیس کو فون کیا۔ اسی دوران ملزمان عابد ملہی اور شفقت وہاں پہنچے، گاڑی کے شیشے توڑ کر خاتون کو باہر نکالا اور گن پوائنٹ پر بچوں کے سامنے اسے زیادتی کا نشانہ بنا کر فرار ہو گئے تھے۔




