چین پاکستان اقتصادی راہداری، ایک گیم چینجرمنصوبہ

کیا بدلتا پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو کر واقعی تاریخ کے نئے باب رقم کر پائے گا؟

امریکہ، برطانیہ، بھارت اور دیگر عالمی طاقتیں چائینہ پاکستان اکنامک کوری ڈور(سی پیک)کے خلاف پروپیگنڈا کیوں کر رہی ہیں؟

سید عابد علی بخاری

دنیا بھر کا میڈیا امریکی انتخابات کے جس بخار میں کئی ماہ سے مبتلا تھا،آہستہ آہستہ اس بخار کی شدت کم ہو رہی ہے۔ انفرادی یا علاقائی مسائل تو دور کی بات کئی ممالک میں تو قومی مسائل پر بھی توجہ ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ پاکستانی میڈیا کا کانٹینٹ ویسے بھی چند شہروں ، چنیدہ سیاست دانوں اور مخصوص موضوعات تک محدود ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر امریکی انتخابات، تباہی، سونامی، جنگ جیسے اہم بیرونی فیکٹر زبھی ان موضوعات میں شامل ہو جائیں تو سماجی، سیاسی اور معاشی موضوعات پر تقریباً پابندی ہی لگ جاتی ہے۔ مزید چند دن کی بات ہے۔ پاکستانی میڈیا ہو یا بین الاقوامی میڈیا سب کے موضوعات بدلنا شروع ہوں جائیں گے۔ ان بدلتے موضوعات میں میڈیا کے اداروں کا وہ مخصوص ایجنڈا بھی شامل ہو جائے گا جس میں خبروں کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کے لیے مخصوص زاویہ نظر شامل کیاجاتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا ایجنڈا سیٹنگ میں کافی مہارت رکھتا ہے۔ان کی خبروں، تجزیوں اور تبصروں میں آپ مخصوص زاویہ نظر کی سوچ کو حاوی دیکھ سکتے ہیں، ایسی پالیسی جو ہر ادارہ اپنے ملک اور ادارے کے ذاتی مفادات کے لیے اپناتا ہے۔ پاکستانی میڈیا ریٹینگ کے چکروں میں بین الاقوامی میڈیا کی خبروں کو من و عن شائع کر کے مخصوص زاویہ نظر کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ بریکنگ نیوز کا متلاشی میڈیا حالات بدلتے ہی پروپیگنڈے کا سب سے موثر ہتھیار بن کر عالمی طاقتوں کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ یہ پھر پاکستان جیسے ممالک کے امیج کو خراب کرنے، ان کے قومی مفادات کے ملکی منصوبوں، اچھے سیاست دانوں اور کامیاب اداروں کے خلاف نیوز اور ویوز کی شکل میں اپنے ہتھیاروں سے لیس ہو کر میدان جنگ میں کود پڑتا ہے۔

عالمی نشریاتی ادارے اور ان کا مخصوص زاویہ نظر:
آپ عالمی میڈیا کی کوئی سی دو ویب سائیٹس پر موجود خبروں کو پڑھ کر دیکھ لیں۔ پاکستان کے متعلق کوئی ایک موضوع اٹھا لیں۔ اس موضوع کا تعلق کسی بھی شعبہ ہائے حیات سے ہو۔ قومی اقدار ہوں، ملکی سیاست ہو، قومی ادارے ہوں یا معاشی و اقتصادی منصوبے، آپ حیران رہ جائیں گے بکہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ عالمی سیاست میں کیا کیا اٹھکیلیاں ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے خلاف کیا کچھ لکھا جا رہا ہے؟ پاکستان کو کس کس زاویے سے بدنام کیا جا رہا ہے۔ آپ صرف دو عالمی پاور امریکہ اور برطانیہ کے ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے میڈیا کو اٹھا کر دیکھ لیں۔ ان کی اردو ویب سائیٹس کو ہی لے لیں۔ صرف گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں۔ کسی ایک موضوع پر ان ممالک کی رائے کیا ہے اس کا جائزہ لے لیں۔آپ ان موضوعات میں سے ” چائینہ پاکستان اکنامک کوریڈور” کے بارے میں ان میڈیا ہاوسز کی کوریج کو دیکھ لیں۔ ان کی سرخیاں اور ذیلی سرخیاں ہی پڑھ لیجئیے، وقت ملے تو ان کے شائع کیے گئے مواد میں من پسند زاویہ نظر ملاحظہ فرما لیجئے۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ ان میڈیا آوٹ لٹس کا مواد، سرخیاں، متن اور ایک ایک سطر آپ کو چیخ چیخ کر تعصب اور منفی پروپیگنڈے کی روداد سنا رہی ہو گی۔ صوبوں کے مابین چپقلش، غیر مساوی تقسیم، گوادر میں پانی کے مسائل، گوادر کے مچھیروں کی منفی کہانیاں، وہاں کے ائیرپورٹ کے مسائل، سی پورٹ کی منفی کوریج، پنجاب اور بلوچستان کے درمیان مفادات کی لڑائیاں، ڈیموں کی تعمیر میں رخنے ڈالنے کی کہانیاں اور سینکڑوں دوسری منفی خبریں۔ اس ساری رپورٹنگ کے دوران آپ حیران رہ جائیں گے کہ کیا ان سب عالمی منصوبوں نے کسی ایک شخص کی زندگی پر کوئی مثبت نقش نہیں چھوڑا؟ قاری حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ اس گہما گہمی میں کیا چائینہ پاکستان اکنامک کوری ڈور اہل پاکستان کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا بین الاقوامی میڈیا کی تعصب زدہ آنکھ دکھا رہی ہے؟ ساتھ یہ بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا سی پیک کے اعلان کے ساتھ ہی آخر بھارت، برطانیہ اور امریکہ کیوں ہاتھ دھو کر پاکستان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں؟

برطانیہ کا نشریاتی ادارہ کیا لکھتا ہے؟
ون بیلٹ ون روڈ کے عالمی منصوبے کے تحت چین اور پاکستان کے مابین اقتصادی ڈویلپمنٹ سے لاکھوں پاکستانی مستفید ہو رہے ہیں۔ اس عالمی منصوبے کا ایک حصہ پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً 62 بلین ڈالر کے ان منصوبوں پر مشتمل ہے جسے چین پاکستان اکنامک کوریڈور یا سی پیک کا نام دیا گیا ہے۔ چین اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے ان منصوبوں کا آغاز سنہ 2013 میں ہوا۔ پختہ سڑکیں اور توانائی کے شعبے سے متعلق کئی منصوبے اس وقت فعال بھی ہو چکے ہیں۔بلوچستان اس سے سب سے زیادہ مستفید ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر صوبوں کی عوام بھی مستفید ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود عالمی نشریاتی ادارے اس سب ڈویلپمنٹ کو خاص زاویہ نگاہ سے پاکستانی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ منصوبے کا آغاز 2013 ء میں کیا گیا تھا اگر ہم گزرے سات برس کا ایک طائرانہ سا جائزہ لیں تو ہمیں برطانیہ کے ایک معروف قومی نشریاتی ادارے کی اردو ویب سائٹ پر تبصروں، تجزیوں اورخبروں کی شکل میں کچھ اس طرح کے کانٹینٹ سے بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ 2013ء میں سی پیک کے قیام کے بعد ایک آرٹیکل کی سرخی کچھ ایسی بنتی ہے۔ ”گوادر، چین اور بلوچ تحفظات” آرٹیکل رائٹر اس میں لکھتے ہیں۔ بلوچ احساسات سے عاری، پاکستان کی سیاسی اور فوجی اشرفیہ بلوچستان کو ثقافت اور قومی آگہی کے بغیر محض ایک انتظامی حصے کے طور پر چلاتی رہی ہے۔آگے مزید لکھتے ہیں۔ سیاسی طور پر جبر کی وجہ سے متاثرہ بلوچوں کو خدشہ ہے کہ چین کی بڑے پیمانے پر گوادر میں موجودگی عسکری کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی جس سے بلوچ براہ راست متاثر ہوں گے۔انہی مضمون نگار کے ایک اور آرٹیکل کی سرخی کچھ اس طرح نظر آتی ہے۔ بلوچستان کے لیے کوئی ‘میڈ ان چائنا’ حل نہیں۔ اسی آرٹیکل میں مضمون نگار لکھتے ہیں کہ توانائی کے بھوکے چین کو بلوچستان کے مسائل اور دردناک سماجی حالات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا رہا۔ اور چینیوں نے بھی کوئی سیاسی حل پیش نہیں کیا اور نہ ہی بلوچستان میں شدید غربت، ناقص غدا، بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل پر بات کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بلوچستان میں دلچسپی رکھتے ہیں، بلوچوں میں نہیں۔

سی پیک کے منصوبے تنقید کی زد میں:
چین اور پاکستان کا اقتصادی راہداری کا منصوبہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے۔ خبروں کا انداز بھی بدلتا نظر آتا ہے۔ اب ذیلی پراجیکٹس اور اس کی باریکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔2015 ء میں ایک سرخی ایسے جمائی جاتی ہے ” سی پیک سے چین کی ‘خاموش سفارتکاری’ کا خاتمہ ” 2016 ء میں علاقائی تعصبات کو ہوا دیتے ہوئے ایک خبر کی سرخی کچھ ایسی نظر آتی ہے ” سی پیک منصوبہ: ‘تمام صوبوں کو اس کا حق دیا جائے”’ اسی کے علاوہ ایک اور آرٹیکل کچھ ایسا بھی نظر سے گزرتا ہے۔ ” سی پیک: گیم چینجر یا ہوائی قلعہ؟ ” 2018 ء میں سرخی یوں نظر آتی ہے۔ ”عمران خان چین میں: سی پیک منصوبے کا مستقبل کیا ہو گا؟” اسی خبر میں لکھتے ہیں۔ ”وزیراعظم عمران خان چین کا دورہ ایک ایسے وقت کر رہے ہیں جب پیچھے ملک میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔” ایک ذیلی سرخی کچھ ایسے جمائی گئی ہے” منصوبے کی شفافیت پر سوالات” ان نئے منصوبوں کی شمولیت سے ہو سکتا ہے کہ عمران خان اپنے ووٹرز کو خوش کرنے میں کامیاب ہو سکیں جس میں خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا ہے جہاں عوام کا خیال ہے کہ سی پیک سے ان کو فائدہ نہیں پہنچا ہے۔” ایک اور خبر کی سرخی یوں بنائی گئی ہے” کیا پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران کی وجہ صرف چینی قرضے ہیں؟” اسی سال کی ایک اور خبر اس شکل میں نظر آتی ہے”اس ترقی سے گوادر کے لوگوں کو کیا ملے گا؟” ایک اور خبر میں کا عنوان ہے”آئی ایم ایف بیل آؤٹ: ‘حکومتوں کا خیال ہو گا چینی قرضے سے نکلنا اتنا مشکل نہیں ہو گا لیکن مشکل ہو گیا ہے”۔ دیامربھاشا ڈیم بھی سی پیک کے منصوبوں میں شامل ہے۔ اس سال آپ کو دیامربھاشا ڈیم پر تنقید کا آغاز ہوتا بھی نظر آئے گا۔ ایک سرخی یوں نظر آتی ہے ”دیامر بھاشا ڈیم کے لیے بزرگوں کی ہڈیاں تک قربان کر دیں”۔ 2019 ء میں ایک سرخی ملاحظہ کریں ” امریکہ کی سی پیک پر تنقید: پاکستان کو انتباہ یا تجارتی تعلقات بحال کرنے کی پیشکش” مزید یہ کہ ” سی پیک: پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری پر انڈیا کے تحفظات کس نوعیت کے ہیں؟ایک اور خبر میں لکھتے ہیں ” کیا سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے؟”
خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے ذریعے رائے سازی:
2020ء بھی کافی ہنگامہ خیز سال رہا۔ یہ کرونا کی وجہ سے معاشی طور پر توانا ممالک کے لیے بھی اقتصادی طور پر چیلنجز اور خدشات کا سال رہا۔ ایک خبر یوں شائع ہوتی ہے۔ ”سی پیک کے منصوبے التوا کا شکار: ‘سی پیک اتھارٹی کا قیام چین کی خواہش پر عمل میں لایا گیا” آگے خبر نگار لکھتا ہے۔”خیال رہے کہ امریکا اور انڈیا متعدد بار چین کے پاکستان میں ان منصوبوں پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔” اسی سے ملتی ایک اور خبر کی سرخی کچھ ایسی نظر آتی ہے۔ ”سی پیک منصوبے التوا کا شکار’ مگر کیوں؟ ذیلی سرخیوں میں لکھا ہے ”سی پیک اتھارٹی 20 فیصد تک فعال”۔ اس سال دیامر بھاشا پر کافی تنفیدی مواد بھی نظر آتا ہے۔جیسے ایک بھارتی خبر نگار اردو خبر کی سرخی کچھ ایسے بناتا ہے۔ ”پاکستان میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر انڈیا کو اعتراض کیوں؟”اسی خبر میں لکھا ہے۔” پاکستان چین کی مدد سے ڈیم بنا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ڈیم چین اور پاک فوج فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے مابین مشترکہ معاہدے کے تحت تعمیر کیا جارہا ہے”۔یہی ادارہ ایک اور خبر میں اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبر کی سرخی بناتا ہے۔ ”دیامیر بھاشا ڈیم: کیا متنازع منصوبہ اس مرتبہ پا ئیہ تکمیل کو پہنچے گا؟” ایک اور خبر میں لکھتا ہے۔ ”دیامیر بھاشا ڈیم طویل التوا کا شکار منصوبہ” ایک خبر ایسی بھی نظر سے گزرتی ہے۔ ”ون بیلٹ ون روڈ: کیا کورونا وائرس کی وبا پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو بھی متاثر کر سکتی ہے؟” اس خبر کے تحت خبر نگار لکھتا ہے، ”چین سے بڑے پیمانے پر قرض لینے والے بہت سے ممالک کو اب بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ان میں سے بہت سے ممالک نے ایک ایک کر کے چین کو بتایا ہے کہ وہ اس قرض کو واپس کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ تو کیا یہ صدر شی جن پنگ کے ‘نیو سلک روڈ’ پروجیکٹ کا اختتام ہے؟” آپ ان خبروں، تبصروں اور تجزیوں کا مزید باریک بینی سے مطالعہ کریں۔ آپ کو احساس ہونا شروع ہو جائے گا کہ اس عالمی منصوبے کو کس خاص زاویہ نظر سے پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوام کی رائے سازی کی جا سکے۔ کچھ یہی حال امریکی نشریاتی ادارے کا بھی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی سرخیاں کیا کہتی ہیں؟
سی پیک کا منصوبہ یوں تو 2013 ء سے شروع ہو چکا تھا۔ آغاز میں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس پر کافی انگلیاں اٹھائی جاتی رہیں۔ جوں جوں منصوبہ واضح ہوتا گیا، ناقدین کی تنقید کم ہوتی گئی لیکن اس سب کے باوجود عالمی طاقتیں اس کے خلاف جال بنتی رہیں۔ بھارت کی براہ راست مداخلت کا منہ بولتا ثبوت کلبھوشن یادیو کی صورت میں موجود ہے۔ اپریل 2015ء میں چینی صدر دو روزہ سرکاری پر اسلام آباد آئے۔ نو برسوں میں یہ کسی بھی چینی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کے دوران چینی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس کے بعد 51 معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اقتصادی شعبے میں تعاون کے 45 ارب ڈالر کے منصوبوں اور مفاہمت کی یاداشتوں کو حتمی شکل دینا اس دورے کی بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ جوں ہی یہ معاہدے سامنے آئے میڈیا کا رخ ان کی جانب مڑ گیا۔ امریکی ریاست کی زیر نگرانی کام کرنے والے نشریاتی ادارے کی اردو ویب سائٹ کامختصر جائزہ لیں تو برطانوی نشریاتی ادارے کی نسبت نظر آتا ہے کہ خبرتیار کرتے وقت یہاں صحافتی اصولوں کو کسی حد تک ضرور مدنظر رکھا گیا ہے لیکن خبر کا انتخاب اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت ہی کیا گیا۔ امریکی ادارے نے اپریل 2015ء میں اس دورے کی کوریج کے دوران شائع خبر”پاکستان، چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے معاہدوں پر دستخط” میں لکھا کہ ”اس اقتصادی راہ داری کا مقصد چین کے شورش زدہ مغربی علاقے سنکیانگ کو بحیرہ عرب پر واقع پاکستان کے گہرے پانی کی بندر گاہ، گوادر سے منسلک کرنا ہے۔” اسی سال ایک اور خبر کی سرخی لگائی گئی” گوادربندرگاہ، کیا واقعی سٹریٹیجک گیم تبدیل ہورہی ہے؟ ایک لمبی ویڈیو کا موضوع تھا،” گوادر کی بندرگاہ اور قابل بھروسہ پڑوسی” 2016ء کی ایک خبر کی سرخی کچھ اس طرح تھی،” سی پیک منصوبہ،سیاسی ادارے مضبوط ہونگے یا فوجی؟” اس پر مزید بات کرتے ہوئے واشنگٹن کے تھینک ٹینک یو ایس آئی پی کی سارہ واٹسن کہتی ہیں کہ پاکستان کے فوجی ادارے پاک چائنا اکنامک کوریڈور منصوبے کو بجٹ میں اضافے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور وجہ بتائی گئی کہ سی پیک کو محفوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک اور خبر کی سرخی تھی،” سی پیک’ میں دوسرے ممالک کی شرکت کا طریقہ کار واضح نہیں” ایک اور خبر ”سی پیک’ سے جڑے معاشی خدشات” کے نام سے شائع کی گئی جس میں کہا گیا کہ” ان منصوبوں میں ہونے والے سرمایہ کاری کی ادائیگیوں کی وجہ سے پاکستان کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”
بلوچستان، کشمیر اور ماحولیات جیسے موضوعات کے تحت تنقید:
2017 ء میں خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے موضوعات مختلف نظر آتے ہیں۔ ایک خبر کی سرخی بنائی گئی ہے ” بدامنی کے باعث بلوچستان میں غربت کی شرح میں اضافہ” دوسری خبر میں موضوع بدل دیا گیا ہے،”سی پیک’منصوبے کے بارے گلگت بلتستان کے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے۔” ایک مفصل خبر میں سی پیک کو ماحولیات کے لیے تباہ کن قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود کے سابق صدر ٹرمپ ماحولیات کے عالمی معاہدے کا مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ خبر کی سرخی ہے،” چین کے ‘ون بیلٹ، ون روڈ’ منصوبے کے ماحول پر اثرات” اس کی تفصیل میں لکھا گیا ہے کہ ”شاہراہ ریشم یا سلک روڈ کے ساتھ تعمیر ہونے والے ‘ون بیلٹ، ون روڈ’ منصوبے میں ‘فوسل فیول’ استعمال ہوگا، جو ماحول کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس نوعیت کا بڑا اور پھیلا ہوا منصوبہ ایک ایسے نازک وقت میں جب دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کو محدود کرنے کے درپہ ہے، جو کہ ماحولیاتی تبدیلی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔” ایک اور بے بنیاد خبر بھی چلائی گئی کہ چین نے اقتصادی راہدی کے تحت تین منصوبوں پر فنڈز ‘روک دیے۔ 2018 ء میں ایک خبر کی سرخی بنائی گئی،” بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں آج بھی غربت کا راج” پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان جو گوادر کی بندرگاہ اور سی پیک منصوبے کی وجہ سے بہت سے ترقیاتی منصوبوں کا مرکز بنا ہوا ہے، وہاں کے بیشتر علاقوں میں آج بھی غربت کا راج ہے۔ مزید ایک خبر میں لکھا گیا،” ‘آئی ایم ایف چینی قرض کی ادائیگی کے لیے پاکستان کو فنڈ نہ دے، پومپیو” 2019 ء کی خبریں بھی مختلف نہیں ایک خبر میں وفاق اور سندھ صوبے کی باہمی چپقلش کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ لکھتے ہیں،” وفاق اور سندھ میں تنازع: کراچی ترقیاتی پیکج کے لیے کون کتنے پیسے دے گا؟” ایک خبر میں امریکہ سی پیک پر پاکستان کو ڈکٹیٹ کرتا نظر آتا ہے۔ خبر کی سرخی ہے،” سی پیک سے پاکستان کی معیشت کو نقصان ہو گا: امریکہ، ”سی پیک میں لگایا جانے والا چینی سرمایہ امداد نہیں، بلکہ قرض کی شکل میں پاکستان پر بوجھ ہے”۔ 2020ء میں بھی امریکی مداخلت میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ خبر کی سرخی ہے، ”کرونا وائرس: کے سبب چین پاکستان کے واجب الادا قرضوں میں چھوٹ دے، امریکہ۔ اسی طرح بھارت کی ایما پر آزادکشمیر میں جاری سی پیک کے جاری منصوبوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
سی پیک عالمی طاقتوں کا ایجنڈا، فائدے اور خدشات:
مذکورہ بالا خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے مختصر جائزے کے بعد یہ واضح نظر آتا ہے کہ عالمی طاقتیں علاقائی اور نسلی تعصب کو ہوا دے کر خدشات پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ پورا منصوبہ صرف پنجاب یا بڑے صوبوں کے لیے مختص نہیں ہے اور نہ ہی اس سے دیگر تین چھوٹے صوبے نظر انداز ہوں گے۔ اگر اس کے حالیہ مکمل ہونے والے منصوبوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے صوبوں میں بلوچستان، خیبرپختون خواہ اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کے علاوہ مصنوعات اور خدمات میں بھی ان صوبوں کے لوگوں کو بڑا حصہ مل رہا ہے۔ سی پیک سے ہونے والے سب سے زیادہ دیرپا فائدے بلوچستان اور جنوبی خیبر پختونخواہ کے محرومی کے شکار اضلاع میں رہنے والے لوگوں کو حاصل ہوں گے۔ سی پیک پاکستان کو زیادہ متحد ہونے میں مدد دے گا۔ مصنوعات اور خدمات کی قومی مارکیٹ سے ان اضلاع کے ملاپ سے ان کی ماہی گیری، کان کنی، لائیواسٹاک، زراعت اور دیگر سرگرمیاں اقتصادی طور پر قابلِ عمل بنیں گی۔ روزگار اور ملازمت کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اس طرح انہیں غربت سے نکلنے میں مدد ملے گی۔ ایک اور خوف چینی قرضوں کا بھی ان خبروں کی شکل میں دنیا کے ذہن میں بٹھایا جاتا ہے۔ یہ قرضے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی شرائط سے بہت مختلف صورت میں سرمایہ کاری کے پوائنٹ آف ویو کے تحت لیے گئے ہیں۔ چین کی ریاست جیسے بیرونی قرضوں میں اضافے کو دیرپا منصوبہ بندی سے کم کیا جا سکتا ہے۔ سی پیک پاکستان کے لیے فائدے اور خطرات دونوں رکھتا ہے۔ یہ پاکستانیوں کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ پیدا شدہ امکانات سے کیسے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ سی پیک میں پاکستان کے لیے کچھ ممکنہ فائدے اور کچھ نقصانات مضمر ہیں۔ اہلِ پاکستان کے اندر بے شمارخوبیاں ہیں۔ پاکستان نے بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چین خود تیزی سے ترقی کرتا ملک ہے اور ہمیں بطور قوم اس سے تعاون اور فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کیا ہے؟
2013 میں چین نے ‘ون بیلٹ، ون روڈ’منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ چین کا منصوبہ ہے کہ اس عالمی پلان کو افریقہ، جنوب مشرقی اور وسطی ایشیائ، یورپ اور لاطینی امریکہ کے 138 ممالک تک پھیلا دیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت ان ممالک میں بجلی گھر، گیس پائپ لائنز، بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور ریلوے لائنیں تعمیر کی جائیں گی۔ چین جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر کے ممالک سے اچھے تعلقات استوار کر رہا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت تعمیر ہونے والی چین کی سڑکیں اور بندرگاہیں 66 ممالک کو ایک رنجیر میں پرو رہی ہیں۔ چین نے پاکستان کی بندرگاہ گوادرکی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین سی پیک کے ذریعے پاکستان میں مزید تعمیرات کررہا ہے۔ چین کے ایران کے ساتھ باہمی تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ ایسے ہی چین نے سری لنکا میں ہمبن ٹوٹا نام کی ایک بندرگاہ بھی مکمل کی ہے۔اس بندرگاہ پر اب چین کو مالکانہ حقوق بھی حاصل ہو چکے ہیں۔ بھوٹان اور بنگلہ دیش میں بھی بی آر آئی یا ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت نئے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ون بیلٹ ون روڈ’ چین کی طرف سے رواں صدی کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے۔ صدر شی جن پنگ کہتے ہیں کہ ‘امن و خوشحالی کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لئے اقتصادی تعاون اور آزاد تجارتی معاہدوں کی ضرورت ہے’ جبکہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ فورم تمام ملکوں کو یکساں مواقع فراہم کرتاہے۔ ایک فورم بھی اس پر کام کر رہا ہے جس میں امریکہ اور بھارت شامل نہیں ہیں۔ ایک سو اڑتیس ممالک کے ساتھ ” بیلٹ اینڈ روڈ” سے متعلق تعاون کے دستاویزات پر دستخط کئے ہیں۔ ”دی بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو آغاز کے بعد سات سالوں میں بین الاقوامی عوامی مصنوعات اور تعاون کا سب سے بڑا مقبول پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ ‘دی بیلٹ اینڈ روڈ’ کی مشترکہ تعمیر
کا مقصد مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ جوں جوں یہ منصوبہ تکمیل کی طرف جا رہا ہے پرانے کھلاڑی نئی گروہ بندیاں بنا رہے ہیں،نئی نئی وفاداریاں قائم ہو رہی ہیں،سابقہ رنجشیں اور دشمنیاں قربتوں میں بدل رہی ہیں اور پرانی محبتیں رقابتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے کیا؟
چائینہ پاکستان اکنامک کوریڈورکے تحت چین پاکستان میں کئی طرح کی سرمایہ کاری کرے گا اس میں سب سے بڑی سرمایہ کاری، سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کے منصوبوں میں کی جا رہی ہے۔سی پیک کا منصوبہ پاکستان کے لیے نئے اقتصادی مواقع پیدا کرے گا۔ اس سے پاکستان کی اہمیت علاقائی سیاست میں بڑھ جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں گہرے سمندری پانیوں والی گوادر کی بندرگاہ کو چین کے خود مختار مغربی علاقے سنکیانگ سے جوڑا جائے گا۔ خنجراب کو گوادر سے جوڑنے کے لیے سی پیک کے تحت تین راستوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ایک صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت پاکستان کے مغربی حصے میں پسماندہ علاقوں سے گزر کر گوادر پہنچے گا۔ دوسرا راستہ پاکستان کے درمیانی راستے سے گزر کر گوادر تک جائے گا۔ تیسرامشرقی راستہ پنجاب اور سندھ سے ہوتا ہوا گوادر تک جائے گا۔ توانائی کے شعبوں کی کامیاب تکمیل کے بعد ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی پیداوار 17045 میگاواٹ ہوگی۔ اقتصادی ترقی کے لئے موثر اور تیز تر نقل و حمل کا نیٹ ورک انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صنعتی تعاون سی پیک کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔اس منصوبے کے تحت چین نے مشترکہ طور پر دو ہزار سے زیادہ منصوبے شروع کیے ہیں جس سے لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا۔ زمینی خطوں کو آپس میں سڑکوں اور ریلوئے کے ذریعے ملانے کے بعد، اس میں مغربی چین سنٹرل ایشیا،مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیاکے علاقے بھی شامل کیے جائیں گے۔ سی پیک میں شمولیت کے لیے بھارت اور سعودی عرب کو بھی دعوت دی جا چکی ہے لیکن انہوں نے واضح حامی نہیں بھری۔ امریکہ بھارت اور افغانستان کے مابین تجارت کی عرض سے ایک الگ روٹ پر کام کرنے کے بارے میں بھی منصوبہ رکھتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں چین دنیا کی سب سے بڑی منڈی بن کر ابھرے گا۔ منصوبے کے تحت سی پیک کی تعمیر کا سفر 2030ـ2017پر محیط ہے۔ سی پیک کے جنوبی سرے میں سمندری دہانے پر واقع گوادر بندرگاہ میگا پراجیکٹ کے اہم منصوبوں میں سے ایک ہے۔ چین اور پاکستان ایسٹ بے ایکسپریس وے منصوبے اور نیو گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈے کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی مشترکہ کاوشوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کو عملی جامع پہنانے کے لئے دونوں فریق مل کر کام کر رہے ہیں۔