حضورپاک کے آخری خطبہ کے زیادہ تر نکات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشورکا حصہ ہیں ،خالدہ سلیمی

قانون کی بالا دستی قائم کرکے مسائل کا حل کیا جاسکتا ہےہر فرد کا نکتہ نظر اور سوچ کا زاویہ مختلف ہوتا ہے

یہ طاقتور کا معاشرہ ہے غریب کی کہیں شنوائی نہیں تو درست ہوگا، مثبت سوچ ، صبرو تحمل ،برداشت ، اخلاق کی بدولت بہت سے مسائل کو کم کیا جاسکتا ہے

Displaying 4.jpg

اسلام آباد(انٹرویو/شاہد نذیر کاہلوں،محمد صلاح الدین خان)حجتہ الوداع کے موقع پر حضورپاک کے آخری خطبہ کے زیادہ تر نکات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشورکا حصہ ہیں،قانون کی بالادستی کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں، برسرے اقتدار آنے والی سیاسی جماعتوں، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، حتی کہ ڈکٹیٹر شپ کے دور حکومت میں بھی انسانی حقوق کی فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے کوششیں کی جاتی رہیں مناسب حد تک قانون سازی بھی کی گئی بدقسمتی سے پاکستان میں 1860 کے قوانین چل رہے ہیں جومعاشرے سے مطابق نہ رکھنے کے باعث غیر موثر ہوچکے ہیں،رائج قوانین موجودہ ملکی صورتحال، مسائل اور ان کے حل سے مطابقت نہیں رکھتے وقت سے ساتھ ساتھ ان میں اصلاحات کی ضرورت تھی جو نہیں کی گئیں ان خیالات کا اظہارسماجی تنظیم سچ کی چیف ایگزیگٹیوخالدہ سلیمی نے نوائے وقت کو انٹر ویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی مجموعی سوچ اور رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، بچوں اور خواتین پر تشدد کو لوگ برا نہیں سمجھتے، قرآن کی جھوٹی قسم کھانے، جھوٹی گواہی دینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، معاشرہ صنفی امتیاز کا شکار ہے، اگر یہ کہا جائے کہ معاشرہ مردوں کا ہے تو یہ کافی حدتک درست ہوگا، قانونی معاملات میں ایف آئی آر کسی کیس کی بنیاد ہوتی ہے اگر یہ جھوٹ پر مبنی ہوگی تو سارا کیس جھوٹ پر مبنی ہوگا بدقسمتی سے معاشرے کا بااثر طبقہ مخالفین کو تکلیف دینے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتاہے اورمفادات کے حصول کے لیے پولیس کو مجبور کیا جاتا ہے ، اثر و روسوخ، رشوت کا استعمال کیا جاتا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ یہ طاقتور کا معاشرہ ہے غریب کی کہیں شنوائی نہیں تو درست ہوگا، مثبت سوچ ، صبرو تحمل ،برداشت ، اخلاق کی بدولت بہت سے مسائل کو کم کیا جاسکتا ہے بیرونی ممالک میں قوانین، انسانی حقوق، قوائدو ضوابط پر 80فیصد تک عمل درآمد کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ان چیزوں پر 80فیصدتک عمل درآمد نہیں کیا جاتا ۔ انسانی حقوق کی سماجی تنظیم سچ کی چیف ایگزیکٹیو خالدہ سلیمی نے کہا کہ انہوں نے اس تنظیم کی بنیاد 1995میں رکھی ، وہ بے نظیر کرائسز سینٹر کی چیئرمین اور بانی رہیں ، ان کی تنظیم کا مقصد معاشرے سے وائلنس اور ٹارچر کو ختم کرکے متاثرہ کی بحالی صحت کے لیے کام کرنا ہے وہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں ،وہ لاہور سے پنڈی اسلام آبا د آئیں انہوں نے انسانی حقوق کے سرکاری غیر سرکاری اداروں،پولیس کے ساتھ کام کیا اب تک 15 سو سے زائد پولیس آفسران کی رویوں کی تبدیلی، قوانین پر عمل درآمد، کے حوالے سے تربیت کی، انہوں نے افغان مہاجرین کی تعلیم و تربیت بحالی کے لیئے کام کیا انہوں نے یوپی یونین، اقوام متحدہ کے اداروں، یو این ایچ سی آرکے ساتھ بھی کام کیا،بدقسمتی سے پاکستان میں ضرورت مندوں اور مستحق افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے محدود وسائل کے باعث وہ تنہا کچھ نہیں کرسکتیں مگر حسب استطاعت لوگوں کی مشکلات حل کرنے کی کوشش اور انسانیت کی خدمت میں لگی رہتی ہیں، بچوں کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے آواز اٹھائی 1995سے کام شروع کیا مختلف تھانوں میں جاتی تو پولیس والے کہتے بی بی یہ شریف خواتین کے آنے کی جگہ نہیں آپ کیوں روز روز یہاں آکر بیٹھ جاتی ہیں میں کہتی آپ(پولیس)لوگ عوام کے محافظ ہو مجھے آپ سے کیا خطرہ اس پر وہ میری بات سنتے اور پوچھتے ہم کیا کرسکتے ہیں، راولپنڈی کے علاقہ تھانہ پیر ودھائی سے بچوں کو گاڑیوں میں بھر کر جوینائل جیل بھیجا جاتا میں اس پر احتجاج کرتی کہ ان کا کیا قصور ، ان کی زندگی خراب ہوجائے گی ، تھانہ پیر ودھائی کے ایس ایچ او نذیر طالبان نے جرم کے خاتمے اور علاقہ کی بہتری کے لیے بہت کام کیا انہوں نے وہاں مجھے ایک کمرہ دیا کہ یہاں بچوں کو رکھو ان کی تعلیم و تربیت کرو یوں میں نے کام شروع کیا، ”مداوا” کے نام سے 4سکول قائم کیے ان میں ایک پیرودھائی، ڈھوک نجو،فیض آباد اور ایک اسلام آباد آئی الیون میں قائم کیا ۔ ہماری تنظیم کی طرز پرپاکستان ٹیلی ویژن نے ”ستبقل” کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ بہت سے سرکاری آفسران ، نجی شخصیات ایسی ہیں جو کام اور خدمات کا جذبہ لیکر میدان میں آئے مگر عملی زندگی اور مسائل میں وہ پھنس کررہ گئے انہیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ کرنا کیا ہے، ہمارے ملک میں درست ڈائریکشن کی اشد ضرورت ہے ہرکام کے شروعات میں مشکلات آتی ہیں ، بدقسمتی سے اچھے کام کو اجاگر نہیں کیا جاتا لوگ ہر اچھے کام پر تنقید کرتے ہیں تنقید کرنالوگوں کی عادت بن چکی ہے لوگوں نے اچھے کام کی تعریف نہیں کرنی جبکہ میراتی ذاتی مشن ہے کہ ہر اچھے کام کو اجاگر کیا جائے سوچ کو مثبت رکھ کر صر ف اللہ کی رضا اور انسانیت کی خدمات کے لیے کام کیا جائے میں 30برس سے بچوں اور خواتین کے ایشوز کو ہائی لائٹ کررہی ہوں نامناسب حالات میں حکومتی اداروں کا کام کرنا قابل تعریف ہے ، انصاف اور انسانی حقوق کی فراہمی میںجوڈیشری اور میڈیا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، پہلے کی بنسبت بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی، خواتین اور بچوں کے لیے زیادہ کام اور زیادہ قانون سازی ہورہی ہے پاکستان بھی اب انٹر نیشنل گلوبل ویلج کا حصہ بن کرقوانین کو مضبوط بناکر اچھائی، تعمیرو ترقی ، وائلنس فری سٹیٹ کی طرف گامزن ہے،جس حکومت میں این جی اوز کی تعداد زیادہ اور وہ سرگرم ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ حکومت گڈگورنس کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے،ملک کے ہرفرد کو آئین کے آرٹیکل 19کے تحت معلومات تک رسائی اور آزاد رائے کی آزادی ہے ہر فرد کا نکتہ نظر اور سوچ کا زاویہ مختلف ہوتا ہے ضرورت ، ماحول، حالات و واقعات کے مطابق انسان اپنے رویوں کا اظہار کرتا ہے یعنی جیسا دیس ویسا بھیس۔