
اسلام آباد :چیئرمین بہارہ کہو ایکشن کمیٹی جاوید انتظار نے کہا ہے کہ بہارہ کہو میں بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔بہارہ کہو میں بجلی کنکشنز نہ لگنا حکومتی بے حسی کا ثبوت ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق احتجاج کے لیے صف بندی کر رہے ہیں۔عمران خان نے بہارہ کہو میں ٹیکنیکل کالج کے قیام کا انتخابی وعدہ وفا نہیں کیا۔بنیادی آئینی حقوق اور انتخابی وعدے کی پاسداری کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی آپشن نہیں چھوڑیں گے ۔وہ یونین کونسل 6 سری چوک میں
منعقدہ تنظیمی اور مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے بہارہ کہو ایکشن کمیٹی یوسی 6 کی پانچ رکنی کمیٹی کا اعلان بھی کیا۔جن میں بہارہ کہو ایکشن کمیٹی یو سی 6 کا چیف آرگنائزر وحید کھو کھر،دیگر اراکین میں اظہر محمود،چودھری زاہد،بلال احمد اور محمد علی عباسی کو نامزد کر دیا گیا۔اجلاس سے چیف آرگنائزر کمیٹی راجہ عثمان عباسی،اراکین کمیٹی توقیر جدون،اظہر محمود اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بنیادی آئینی حق کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔آنے والے دنوں میں بڑا سرپرائز دیں گے۔بہارہ کہو ایکشن کمیٹی عوام میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے شعور اور آگاہی کی سوچ پیدا کر رہی ہے۔ عوام اپنی مدد آپ کے تحت میدان میں نکلے گی۔جاوید انتظار نے کہا کہ بہارہ کہو گنجان آباد علاقہ بن چکا ہے اور این اے 53 کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔اس کے باوجود زمین کے ملکیتی حق رکھنے والے , رجسٹری اور انتقال کے ذریعے قومی خزانے میں ٹیکس جمع کرانے والے بنیادی آئینی حقوق سے محروم ہیں . اس ظلم کے خلاف منظم عوامی تحریک کا آغاز کردیا ہے۔اجلاس میں بہارہ کہو ایکشن کمیٹی کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔حکومت سے بجلی کنکشنز ز بحال کرنے اور وزیر اعظم سے سے ٹیکنیکل کالج کے قیام کا انتخابی وعدہ وفا کرنے کے مطالبات کیے گئے ۔اجلاس میں یونین کونسل وائز ایکشن کمیٹی کے علاوہ وارڈز وائز تنظیمی کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اجلاس میں درجنوں معززین علاقہ نے شرکت کی ۔



