
کراچی :وفاق المدارس پاکستان کے صدر اور جامعہ بنوریہ ٹان کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر انتقال کر گئے۔
انتظامیہ جامعہ بنوریہ کے مطابق مرحوم جامع العلوم الاسلامیہ بنوری ٹان میں شیخ الحدیث کی خدمات انجام دے رہے تھے، ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔وہ مفتی نظام الدین شامزئی کی شہادت کے بعد بنوری ٹان کے شیخ الحدیث مقرر ہوئے تھے۔
مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جے یوآئی سندھ کے امیر مولانا سائیں عبدالصمد ہالیجوی اور مولانا راشد محمود سومرو کا کہنا ہے کہ مولانا اسکندر بہت بڑے علمی پائے کے جید عالم دین تھے۔ مولانا اسکندر کا سانحہ ارتحال امت مسلمہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے، مولانا اسکندر کے علمی، تدریسی اور تحریک خدمات کو مدتوں یاد رکھا جائے گا، مولانا اسکندر نے ہر تحریک میں صف اول میں رہ کر قائدنہ کردار ادا کیا۔
سمیع سواتی کا مولانا ڈاکٹر اسکندر کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مولانا اسکندر کافی عرصے سے علیل اور انڈس اسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل تھے، وہ 25 سال سے معروف دینی درسگاہ جامعہ بنوری ٹان کراچی کے چانسلر اور شیخ الحدیث تھے، وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تادم وفات امیر مرکزیہ رہے ہیں۔ سمیع سواتی کے مطابق وہ دنیائے مدارس کے سب بڑے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی صدر تھے، ان کی عمر 86 سال تھی وہ 1935 میں کاکول ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے جامعہ بنوری ٹان کے علاوہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، جامعہ الازہر سے علمی استفادہ کیا۔
سمیع سواتی کے مطابق وہ 1997 سے ڈاکٹر حبیب اللہ مختار کی شہادت کے بعد جامعہ بنوری ٹان کے چانسلر مقرر ہوئے تھے، وہ بلاواسطہ ہزاروں اور بالواسطہ لاکھوں علما کے استاذ تھے ۔
واضح رہے کہ مولانا اسکندر کے وفات کی خبر جنگل میں آگ کی طرح دنیا بھر میں پھیل گئی ہے۔ ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی نمازِ جنازہ بعد نماز عشا بنوریہ ٹان مسجد میں ادا کی گئی۔


