عائشہ نے مسیج کر کے لڑکوں کو بلایا ٹک ٹاکر خاتون کو بھی گرفتار کیا جائے: ملزمان کے اہل خانہ کا مطالبہ

لاہور:
مینارِ پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاکر عائشہ اکرم سے دست درازی اور اسے بے لباس کرنے کے کیس میں گرفتار ملزمان کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹک ٹاکر عائشہ کو بھی گرفتار کیا جائے۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر ملزمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف چاہیئے، ہم نے کچھ نہیں کیا، پولیس نے ہمیں بلا جواز گرفتار کیا ہے۔اس موقع پر ملزمان کے اہلِ خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے بے گناہ ہیں، انہیں بلا جواز گرفتار کیا گیا ہے۔
ایک ملزم کی فیملی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 14 اگست کو ہمارا بچہ گھر میں تھا کہ گرفتار ایک ملزم نے پولیس سے کہا کہ ہمارا بچہ ان کے ساتھ تھا جس پر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ایک اور فیملی نے اس موقع پر حکام سے مطالبہ کیا کہ ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کو بھی شاملِ تفتیش کیا جائے، 12 اگست کو عائشہ اکرم نے میسیج کر کے لڑکوں کو وہاں بلایا تھا۔
دوسری جانب لاہور کی عدالت نے مینارِ پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم سے دست درازی اور اسے بے لباس کرنے کے کیس میں گرفتار 40 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ملزمان کو چہرے ڈھانپ کر عدالت لایا گیا، دورانِ سماعت عدالت نے ملزمان کی شناخت پریڈ کرانے کا حکم دے دیا۔عدالت کو بتایا گیا ہے کہ پولیس نے 60 افراد کی تصاویر شناخت کے لیے نادرا کو بھجوا دی ہیں۔
ایک ملزم نے لاہور ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت لے لی، عدالتِ عالیہ کی جانب سے اسے 3 ستمبر تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ لاہور میں مینارِ پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کو دست درازی، ہراسگی اور بدتمیزی کا نشانہ بنانے کا واقعہ 14 اگست کے روز پیش آیا تھا۔یومِ آزادی کے موقع پر خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم سے ہوئی دست درازی کا خوفناک واقعہ 3 روز بعد سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آیا۔سیکڑوں نوجوانوں نے ٹک ٹاکر عائشہ اکرم اور اس کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کپڑے پھاڑ دیئے جبکہ پولیس واقعے سے بے خبر رہی۔
متاثرہ لڑکی عائشہ اکرم کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر سوجن اور خراشوں کے 13 نشانات واضح ہیں۔
وزیرِ اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کو ٹیسٹ کیس قرار دیا ہے۔