بیجنگ:چینی سکالر پروفیسر چنگ شی چونگ نے کہا ہے کہ چین پاکستانی اشیا کیلئے ایک بہت بڑی مارکیٹ بن سکتا ہے، چین کو برآمدات بڑھانے کے لیے پاکستان کے حالات بہت سے سازگار ہیں، چین اور پاکستان کے درمیان اچھے سیاسی اور سفارتی تعلقات ہیں،دوطرفہ تجارت جلد ہی 30 بلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ سکتی ہے، پاکستانی حکومت اور کاروباری اداروں کو چینی مارکیٹ میں پروموشن کو تقویت دینی چاہیے۔ گوادر پرو کے مطابق چین کی ساوتھ ویسٹ یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس اینڈ لا کے وزیٹنگ پروفیسر چنگ شی چونگ نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق رواں سال جولائی سے ستمبر تک کے تین ماہ میں پاکستان کی چین کو برآمدات 69.73 فیصد اضافے کے ساتھ 559.15 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ وبائی صورتحال کے تحت یہ واقعی ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔ انہوںنے کہا کئی سالوں سے چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں بہت بڑا عدم توازن رہا ہے۔ مثال کے طور پر 2020 میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 17.49 بلین ڈالر تھا، جس میں سے چین کی پاکستان کو برآمدات 15.37 بلین ڈالر اور پاکستان کی چین کو صرف 2.12 بلین ڈالر تھیں ۔ رواں سال جولائی سے ستمبر کے دوران چین کی پاکستان کو برآمدات 4012.10 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں ۔ انہوں نے کہا دونوں ممالک کے درمیان تجارتی عدم توازن کو کم کرنے کے لیے دونوں فریقوں کو کوششیں کرنی چاہئیں اور پاکستان کو چین کو برآمدات مسلسل بڑھانے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کے مطابق نئی سطح تک بڑھایا جا سکے۔ گوادر پرو کے مطابق انہوں نے کہا چین کو برآمدات بڑھانے کے لیے پاکستان کے حالات بہت سے سازگار ہیں۔ سب سے پہلے چین اور پاکستان کے درمیان اچھے سیاسی اور سفارتی تعلقات ہیں۔ دوسرا، چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا پروٹوکول اور اس کی خصوصی ترجیحی شرائط نے پاکستانی سامان کے بڑے پیمانے پر چین میں داخل ہونے کے لیے بہت سازگار حالات پیدا کیے ہیں۔ تیسرا، چین ایک بڑا ملک ہے جس کی آبادی 1.4 ارب ہے اور پڑوسی پاکستان سے ملحق ہے۔