مودی گھمنڈی آدمی ملاقات کے بعد پانچ منٹ میں ان سے لڑائی ہو گئی ،گورنر سیتا پال ملک کا انکشاف

ثابت ہوگیا ، مودی سچائی نہیں صرف اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں، اسد الدین اویسی


نئی دہلی: بھارتی ریاست میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے حکومت اور بی جے پی قیادت پر اپنا جارحانہ موقف جاری رکھا ہو ا ہے ہریانہ کے دادری میں ایک سماجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ جب وہ کسانوں کے احتجاج پر بات کرنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے تو وہ گھمنڈمیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پی ایم کے ساتھ بحث بھی ہوگئی تھی۔، ستیہ پال ملک نے کہاکہ جب میں کسانوں کے مسئلہ پر وزیر اعظم سے ملا تو پانچ منٹ کے اندر ان سے میری لڑائی ہو گئی۔ وہ بہت گھمنڈمیں تھے۔ جب میں نے ان سے بتایا کہ ہمارے 500 لوگ مر گئے تو انہوں نے کہاکہ کیا میرے لیے مرے ہیں؟ میں نے کہا کہ آپ کیلئے ہی تومرے تھے،کیونکہ آپ راجہ جو بنے ہوئے ہو۔ اس کو لیکر میری ان سے لڑائی ہوگئی، ملک نے آگے کہاکہ پی ایم نے کہاکہ آپ امیت شاہ سے مل لو۔ جس کے بعد میں امیت شاہ سے ملا۔ستیہ پال ملک نے انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ امیت شاہ نے مجھ سے کہاکہ وزیراعظم مودی کو وہی کرنا ہوگا جو آپ کہہ رہے ہیں۔ بعد میں دادری میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، ملک سے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے حکومت کے فیصلے پر ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے جو کہا اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے تھے۔ ہمیں (کسانوں کو)فیصلہ لینا چاہئے۔ ہمیں کچھ ایسا کرنے کی بجائے ایم ایس پی کیلئے قانونی گارنٹی پانے کیلئے ان کی مدد لینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مسائل ابھی بھی زیر التوا ہیں۔ جیسے کسانوں کے خلاف مقدمات۔ حکومت ان مقدمات کو واپس لے۔ اسی طرح ایم ایس پی پر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔بتا دیں کہ اس سے پہلے بھی ستیہ پال ملک زرعی قوانین کو لے کر کئی بار مرکزی حکومت پر بیان دے چکے ہیں۔ نومبر میں، جے پور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ آخر کار مرکز کو کسانوں کے مطالبات ماننا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی وہ کسانوں کے مسئلہ پر بولتے ہیں تو انہیں ایک دو ہفتوں تک خوف رہتا ہے کہ شاید انہیں دہلی سے کوئی فون آجائے۔اس معاملے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہاکہ میگھالیہ کے گورنر ستیہ ملک سے ملاقات کے دوران پی ایم مودی ناراض ہوگئے کیونکہ ملک نے زرعی قوانین کی وجہ سے 500 سے زیادہ کسانوں کی موت کی بات کہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ایم گورنر سے بھی سچائی نہیں سننا چاہتے، عوام کی توبات ہی چھوڑیئے۔ وہ صرف تعریف سننا چاہتے ہیں۔