شدید برفباری مری میں سیاحو ں پر قیامت گزر گئی ، 22 جاں بحق

گلذانہ ، گلیات اور باڑیاں میں ہزاروں گاڑیاں تاحال برف میں پھنسی ہیں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے


اسلام آباد:مری:راولپنڈی :شدید بارش ، برفباری اور سردی سے مری میں سیاحوں پر قیامت گزر گئیں،شدید سردی سے ٹھٹھر کر 22 جاں بحق ہوگئے جن میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد بھی شامل ہیں ۔ آخری خبریں آنے تک مری میں سے آگے کے علاقوں گلذنہ باڑیاں اور گلیات میں ہزاروں گاڑیاں برف میں پھنسی ہوئی ہیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ جبکہ آج مری میں مزید بارش ، برفباری اور طوفان کا امکان ہے جس کی وجہ سے مری جانے والے راستے بند کر دئیے گئے ہیں۔
ریسکیو1122 کے مطابق مری میں شدید برفباری میں پھنسی گاڑیوں میں سے 22 نعشیں نکالی گئی ہیں جن میں اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی سمیت دو خاندانوںکے افراد بھی شامل ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی مردہ حالت میں ملے ہیں کیری بولان سے 27سالہ زاہد ولد ظہور سکنہ کمال آباد، کار ایل ای اے 9312 سے 31 سالہ اشفاق ولد یونس سکنہ گوجرانوالہ، 31 سالہ معروف ولد اشرف سکنہ لاہور ،30 سالہ شناخت نہیں ہو سکی سکنہ لاہور، کار483 میں تھانہ کوہسار میں تعینات اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی 49 سالہ نوید اقبال ولد مراقبہ خان اپنی 43 سالہ ہمشیرہ ، تین بیٹیوں، ایک بیٹے اور کمسن بھانجے ، وی ایکس آر کاراین جی 424 میں 27 سالہ سہیل خان ولد فضل رحمان سکنہ مردان، 22 سالہ اسد ولد زمان شاہ سکنہ مردان، 21 سالہ محمد بلال ولد محمد غفار سکنہ مردان، 24 سالہ محمد بلال حسین ولد سید غوث خان سکنہ کراچی کے علاوہ راولپنڈی کے تین رہائشیوں 46 سالہ محمد شہزاد ولد اسماعیل اپنی فیملی 35 سالہ مسز شہزاد،گیارہ اور آٹھ سالہ بیٹے بیٹی سمیت جاں بحق ہوگئے ہ


وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ رات سے 1 ہزار گاڑیاں مری میں پھنسی ہوئی ہیں، ان پھنسی ہوئی گاڑیوں میں 20 افراد کی اموات ہوئی ہیں تاہم ریسکیو ذرائع نے 21 اموات کی تصدیق کی ہے۔
وزیرِ داخلہ شیخ رشید مری اور گلیات میں پھنسے مسافروں کی امداد کی مانیٹرنگ کے لیے مری پہنچ گئے، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مری میں امدادی کارروائیوں کے لیے پاک فوج کی 5 پیدل پلاٹون ہنگامی بنیاد پر منگوائی گئی ہیں، ہنگامی بنیادوں پر ایف سی اور رینجرز کو بھی طلب کر لیا ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ سیاح بڑی تعداد میں مری کی طرف گئے، جس کی وجہ سے اب مری جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، پیدل جانے والوں کا داخلہ بھی بند کر رہے ہیں، صرف خوراک اور کمبل لے جانے والی گاڑیوں کو وہاں جانے کی اجازت دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی ساری انتظامیہ ریسکیو میں لگی ہوئی ہے، مری میں پھنسی ہوئی ایک ہزار گاڑیوں کو شام تک نکال لیں گے، خوراک، کمبل اور امدادی سامان لے جانے والوں کو پیدل مری جانے کی اجازت دیں گے۔وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ 15، 20 سال میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں نے مری کا رخ کیا ہے، اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی مری آمد کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس بحران کی وجہ سے مری جانے والے ٹریفک کو بند کرنا پڑا، مری میں پھنسی کچھ گاڑیوں کو نکال لیا ہے، کچھ کو واپس بھیج دیا ہے، پھنسے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ مری میں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کے لیے سول آرمڈ فورسز کی مدد طلب کر رہے ہیں۔
نہوں نے کہا کہ لوگ بڑی تعداد میں مری اور گلیات آ چکے ہیں، پچھلے 12 گھنٹوں میں مری کے بند ہونے والے راستے کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں، تاہم سیاحوں کی بہت بڑی تعداد اب بھی مری میں موجود ہے۔
وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اپیل کی کہ مری کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے لوگ سیاحوں کو خوراک اور کمبل فراہم کریں، مری میں کل (اتوار) رات 9 بجے تک جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔
دوسری جانب مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے لیے آج رات شدید موسمی صورتِ حال کاا نتباہ جاری کیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ نے مری اور گرد و نواح میں بارش، برف باری اور طوفان کی پیش گوئی کی ہے، 50 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواوں کے ساتھ طوفان آ سکتا ہے، جس کے دوران شدید برف باری کا امکان ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مقامی افراد رات گھروں سے نہ نکلیں، ایمبولینس سروسز، سیکیورٹی گاڑیوں اور فائر فائٹرز کو الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔
برف باری ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد نے گزشتہ روز مری کا رخ کیا تھا، برف باری کی وجہ سے متعدد گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئیں اور ہزاروں سیاحوں نے گزشتہ رات سڑکوں پر گزاری۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارش کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کے پیشِ نظر نالوں میں سیلابی صورتِ حال کا خدشہ ہے، اس حوالے سے بھی ریسکیو ٹیموں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔


اسلام آباد. اے ایس پی سٹی آمنہ بیگ سانحہ مری میں جاں بحق اے ایس آئی نوید اقبال کی رہائشگاہ پر ان کے بیٹے سے اظہار تعزیت کر رہی ہیں 

جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید اقبال کی آخری گفتگو
سانحہ مری میں گاڑی میں اپنی فیملی کے ساتھ جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید اقبال کی اپنے کزن طیب گوندل سے گزشتہ رات ہونے والی گفتگو سامنے آگئی۔مرحوم اے ایس آئی نوید اقبال نے اپنی آخری گفتگو میں کہا کہ 20 گھنٹے سے ہم پھنسے ہوئے ہیں، کوئی کرین بھجوادیں، ہمیں مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔اے ایس آئی نوید اقبال کا کہنا تھا کہ سب نکلنے کا انتظار کررہے ہیں، مزہ تو تب ہے جب ہم صبح تک نکل جائیں، کرین آجائے کام تو شروع کردے۔نوید اقبال کا کہنا تھا کہ اللہ کرے کوئی سسٹم بن جائے اور ہم یہاں سے نکل جائیں۔