ساہیوال میں مشکوک مقابلہ،خواتین سمیت 4 ہلاک، حصہ لینے والے سی ٹی ڈی اہلکار گرفتار

پنجاب کے شہر ساہیوال میں شادی کے لئے گھر سے جانے والے خاندان کی کے مشکوک پولیس مقابلے میں قتل کے بعد ملوث سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے

 

اس سے قبل محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے مبینہ انکاؤنٹر جس میں دو عورتوں سمیت چار افراد ہلاک اور تین بچے معمولی زخمی ہوئے ہیں، مختلف سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

 

حکومت پنجاب کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مشکوک پولیس مقابلے میں ملوث سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعلٰی اپنی تمام مصروفیات منسوخ کر کے ساہیوال روانہ ہو گئے ہیں۔

 

اس واقعہ کی خبر سامنے آنے کے بعد موقع سے تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنا شروع ہو گئیں اور پولیس کے موقف کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

انمیں ہی جاں بحق ہونے والے خاندان کے زندہ بچ جانے والے 3 بچوں ایک ویڈیو بھی ہے جس میں وہ کہ رہے تھے کہ میرے بابا نے انھیں کہا جتنے چاہے پیسے لے لو ہمیں چھوڑ دو مگر انہوں نےگولیاں چلا کر انھیں قتل کر دیا

وزیر اعلیٰ پاب عثمان بزدار کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور انسپیکٹر جرنل پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ اس واقعہ کی ہر پہلو سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی جائے۔

آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی ذوالفقار حمید جے آئی ٹی کے سربراہ ہونگے جبکہ انٹیلی جینس ایجنسیز آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے رکن اس کا حصہ ہونگے۔

یہ ٹیم اپنی تحقیقات مکمل کر کے تین روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔دریں اثناء اس واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد لاہور کے کچھ علاقوں میں لوگوں نے احتجاج شرع کر دیا اور سڑکیں بلاک کی گئیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے بیان میں کہا کہ ٹی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دہشت گرد مارے گئے ہیں لیکن میڈیا اور بچوں کے بیانات کچھ اور بتا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے حقائق کو سامنے لانے کی ہدایت کی ہے۔

اس مبینہ انکاؤنٹر میں بچ جانے والے بچوں میں سے ایک کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بھورے والا گاؤں شادی میں جا رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کے والد کے ایک دوست تھے۔ بچے کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے پہلے ان کے والد نے کہا کہ پیسے لے لو ہم کو چھوڑ دو لیکن انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ بعد میں جو مر گئے انہیں گاڑی میں ڈال دیا اور ہمیں اپنے ساتھ پتہ نہیں کہاں لے گئے اور پھر ایک پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا۔

بچے نے بتایا کہ اس کے بعد ایک شخص آیا اس نے کہا کہ میں آپکو گھر چھوڑ دوں لیکن پھر ہمیں ہسپتال لے آئے۔