”سازش نہیں مداخلت”عمران کیا کریں گے؟

دارالحکومت سے جاوید صدیق
jsiddiq48@hot.mail.com

چلواتنا تو مان لیا گیا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوئی تھی جس پر مداخلت کرنے والے ملک کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اوران کے ترجمان اور حامی یوٹیوبرز کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے حامیوں اور قوم کوبتائیں کہ دونوں باتیں ایک ہی ہیں۔ جب کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جائے اور یہ کہا جائے کہ اگر فلاں شخص کو اقتدار سے نہ ہٹایا گیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔ تو یہ معمولی بات نہیں اس لیے شاید نہ چاہتے ہوئے بھی DEMARCHE یا احتجاجی مراسلہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
بڑی طاقتیں کمزور ملکوں میں مداخلت کرکے وہاں ایسی حکومتوں کو جو انہیں پسند نہ ہوں یا ان کے مفادات کے خلاف کام کررہی ہوں۔ انہیں ہٹانے کی پالیسی پر ایک عرصہ سے گامزن ہیں۔ پچاس کی دہائی میں ایران کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کا سی آئی اے نے تختہ الٹ کر شاہ ایران کو مسند اقتدار پر بیٹھا دیا تھا۔ انڈونیشیاء میں صدر سیکارنو کے خلاف بغاوت کرا کے جنرل سوہارتو کو اقتدار دلایا گیا تھا۔ جنرل سوہارتو جنہیں چند سال پہلے عوام نے اقتدار سے نکال باہر کیا تھا انکے خاندان میں اپنے تیس سالہ دور حکومت میں اربوں ڈالر کی کرپشن کی ۔ وہاں بھی جنرل آیا ندے کو ایک فوجی سفارت کے ذریعہ اقتدار دلایا گیا۔ پیسے کے زور پر اور فوج کو استعمال کرکے حکومتیں بدلنے یعنی REGIME CHANGE کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔
دور کیوں جائیں؟ جولائی 1977ء میں پاکستان کے مقبول منتخب لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے فوجی بغاوت کا سہارا لیا گیا۔ بھٹو کا قصور اتنا تھا کہ وہ پاکستان کو ایک ایٹمی قوت بنانے کے منصوبے پر کام کررہے تھے اور اسلامی ممالک کا ایک بلاک بنانے کے لیے بھی تگ ودو کررہے تھے۔ 1976ء کے آخر میں امریکہ کے وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے لاہور کے گورنر ہاؤس میں ذوالفقار علی بھٹو کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے ایٹمی پروگرام کوختم نہ کیا تو انہیں ایک بھیانک مثال بنا دیا جائے گا اور پھر انہیں تختہ دار پر لٹکا کر بھیانک مثال بنا دیا گیا۔ بھٹو انتہائی مقبول تھے۔ جب انہیں مری کے گورنر ہاؤس سے ”فوج کی حراست” سے رہا کیا گیا وہ لاڑکانہ چلے گئے۔ لاڑکانہ سے وہ ٹرین پر کراچی آئے تو لاکھوں افراد نے ان کا استقبال کیا۔
اس وقت کراچی کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جہاں زیب ارباب نے مسٹر بھٹو سے کراچی میں ملاقات کرکے انہیں شاندار استقبال پر مبارک باد دی اور کہا کہ ان کا فقید المثال استقبال ہوا ہے۔ لاہور پہنچنے تک ذوالفقار علی بھٹو کراچی سے خیبر تک چھا گئے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہی مقبولیت ان کو تختہ دار تک لے گئی۔
عمران خان کی صور ت حال بھی کچھ ایسی ہے۔ وہ یہ تاثر دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ انہیں غیر ملکی ”مداخلت” یا ”سازش” کے ذریعہ اقتدار سے ہٹایا گیا ہے۔ پشاور میں ان کے جلسے سے واضح ہوگیا ہے کہ ان کی مقبولیت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ کراچی ‘ لاہور اور دوسرے شہروں میں ان کے جلسے اس سے بھی بڑے اور پُرجوش ہونے کا امکان ہے۔
عمران خان کی جان کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے کوئی چال چلی جاسکتی ہے۔عمران خان کے پاس البتہ موقع ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کو ایک انقلابی تحریک میں بدلنے کی کوشش کریں۔ قومی خزانے کی لوٹ مار’ ناانصافی’ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سرکاری زمینوں پر قبضے اور کمشنوں’ انتظامی اور عدالتی نظام کو وہ جڑ سے نکال باہر پھینک سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ وہ حوصلے اور مستقبل مزاجی کے ذریعے لوگوں کو متحرک کرلیں۔ لوگ اس نظام کو ستائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان جو اس ملک کی آبادی کے ساٹھ فیصد سے زیادہ ہیں وہ عمران خان کے لیے اثاثہ بن سکتے ہیں۔ ان کو متحرک کرکے وہ”MAFIAS” کو تہس نہس کرسکتے ہیں۔ چین یا ایران کی طرز کا انقلاب تو شاید نہ لا پائیں لیکن دو تہائی اکثریت لے کر اگر حکومت بنالیں تو ملک کو کرپشن’ نااہلی اور غیر منصفانہ نظام سے شاید نجات دلاسکیں۔