حمزہ شہباز 197 ووٹ لے کر پنجاب کے 21 ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے

لاہور: پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں تشدد، گرفتاریوں، ہنگامہ آرائی کے باوجود حمزہ شہباز 197 ووٹ لے کر پنجاب کے 21 ویں وزیراعلی منتخب ہوگئے ہیں۔ہفتہ کو ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں ہنگامہ آرائی کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے نئے وزیراعلی کے لیے ووٹنگ کرائی۔ بعدازاں دوست محمد مزاری کی جانب سے باضابطہ نتیجے کا اعلان کردیا گیا۔
ڈپٹی اسپیکر نے اعلان کیا کہ وزیراعلی کے لیے امیدوار پرویز الہی کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے جب کہ حمزہ شہباز 197 ووٹ لے کر پنجاب کے نئے وزیراعلی منتخب ہوگئے ہیں۔
منتخب ہونے کے بعد ایوان سے خطاب
پنجاب کے نومنتخب وزیر اعلی حمزہ شہباز نے صوبائی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے معاملے میں بھی سابق حکومت کی انا آڑے آگئی جس کی وجہ سے ملکی ترقی کو دا ئوپر لگادیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں آئین و قانون کا مذاق اڑایا گیا جبکہ دوہفتوں سے ہیجانی کیفیت طاری رہی لیکن برا وقت آتا ہے اللہ کے کرم سے چلا جاتا ہے۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا تھا خودکشی کرنا تھی، جوزیادہ بدتمیزی کرتا ہے اسے ٹائیگرکہا جاتا ہے، عمران نیازی نے عوام کو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دیا، بجلی 61 فیصد گیس 167 فیصد نیازی کے دو میں مہنگی ہوئی، آج عوام بہت مشکل میں ہے۔
وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ پہلی دوسری تیسری ترجیح عوام کے مسائل حل کرنا ہوگا، عوام کے مسائل کو سب سے پہلے حل کریں گے، اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلناچاہتے ہیں، ملک کی ترقی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
قبل ازیں اجلاس شروع ہوا تو پی ٹی آئی کے ارکان ایوان میں لوٹے لے کر آگئے انہوں نے لوٹے ڈپٹی سپیکر کی طرف اچھالے اور پی ٹی آئی کی خواتین ارکان نے سپیکر پر حملہ کر دیا جن کا ساتھ مرد ارکان نے بھی دیا اس موقع پر ڈپٹی سپیکر پر تھپڑوں کی بارش کر دی گئی ان کے بال بھی کھینچے گئے۔ پرویز الہٰی ہاتھ کے اشارے سے پی ٹی آئی ارکان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
اس دوران مشتعل ارکان نے پرویز الہٰی پر حملہ کر دیا اور ان کو زخمی کر دیا۔
بعد ازاں تحریک انصاف کے اراکین ایوان سے واک آئوٹ کر گئے اور حمزہ شہباز بلامقابلہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے۔

