بورس جانسن ہمت ہار گئے پارٹی قیادت سے مستعفی، نئِے رہنما کے انتخاب تک وزیر اعظم رہیں گے

دنیا کا بہترین عہدہ چھوڑنے پر افسردہ ہوں تاہم سیاست میں کوئی بھی ‘ذرہ برابر نا گزیر نہیں ہوتا،خطاب


لندن :برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعرات کی دوپہر کنزرویٹیو پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے اور نئے قائد کے انتخاب تک اپنے عہدے پر ذمہ داریاں نبھانے کا اعلان کیا ہے ۔وزیر اعظم ہاس، 10 ڈاوننگ سٹریٹ، کے سامنے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ دنیا کا بہترین عہدہ چھوڑنے پر افسردہ ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی بھی ‘ذرہ برابر نا گزیر نہیں ہوتا۔’
حالیہ دنوں میں ان کے کئی وزرا نے وزیر اعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا تھا۔
بورس جانسن کے پارٹی قیادت سے مستعفی ہونے سے قبل کنزرویٹیو پارٹی کے بیک بینچ ارکان پارلیمان کی طاقتور ‘1922 کمیٹی’ کے ڈپٹی چیئرمین نے بھی آج اپنے ان ساتھیوں کی آواز میں آواز ملائی جو بورس جانسن سے بطور وزیر اعظم فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وِیلڈن سے رکنِ پارلیمان نصرت غنی کا کہنا ہے کہ نائب وزیر اعظم ڈومینِک راب کو عبوری مدت کے لیے فورا ہی بورس جانسن سے اختیارات لے لینے چاہئیں۔
ماضی میں وزیر اعظم کے دست راست مگر اب سیاسی حریف ڈومینِک کمِنگز نے کنزویٹیو ارکان پارلیمان سے کہا ہے کہ وہ بورس جانسن کو نگراں وزیر اعظم بنانے کی بجائے فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیں۔
حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر سٹارمر نے بھی وزیر اعظم سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا عبوری وزیر اعظم رہنا ملک کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔سٹارمر کا کہنا تھا، ‘انھیں جانا ہوگا، وہ چمٹے نہیں رہ سکتے۔’
بی بی سی کے سیاسی امور کے نامہ نگار ایئن واٹسن کا کہنا ہے کہ 1922 کمیٹی کا آج ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں نئے قائد کے انتظام کے لیے ٹائم ٹیبل طے کیا جائے گا۔
بعض اراکین پارلیمان انتخابی عمل کو مختصر کرنے پر زور دے رہے ہیں جس میں پارٹی اراکین کو نیا قائد منتخب کرنے کے لیے موسم خزاں (اکتوبر) تک انتظار کی بجائے ایک ماہ کا وقت دیا جائے۔
قبل ازیں برطانیہ کے وزیرِاعظم بورس جانسن نے یکے بعد دیگرے کابینہ کے وزرا کے استعفوں سے پیدا ہونے والے سنگین سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے کنزرویٹیو پارٹی کے رہنما کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا اور موسم خزاں تک وزارت عظمی کے عہدے پر رہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
اس دوران پارٹی کا نیا رہنما چننے کا مرحلہ طے کیا جائے گا، جس کے بعد اکتوبر میں ٹوری پارٹی کانفرنس سے قبل بورس جانسن کی جگہ نیا وزیر اعظم منتخب کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند دنوں میں برطانوی وزیر اعظم پر مستعفی ہونے کا دبائو بڑھ رہا تھا اور اسی سلسلے میں ان کے 50 کے قریب وزرا نے بھی ان پر عدم عتماد کا اظہار کرتے ہوئے استعفی دے دیا تھا۔
بورس جانس کی پارٹی کی حالیہ بغاوت کی وجہ ایک سکینڈل بنا جس میں برطانوی وزیراعظم کے ڈپٹی چیف وہپ کرس پنچر پر الزامات تھے۔ بورس جانسن کے پارٹی کے لوگوں کا خیال ہے کہ انھوں نے اس سکینڈل سے درست طریقے سے نہیں نمٹا۔
برطانوی وزیر اعظم پر جمعرات کو دبا کیسے بڑھا؟
24 گھنٹوں میں ریکارڈ استعفوں کے بعد وزیر اعظم بورس جانسن پر خود مستعفی ہونے کا دبا ئوجمعرات کی صبح تک مزید بڑھ چکا تھا۔
جمعرات کو شمالی آئرلینڈ کے سیکریٹری برینڈن لیوس وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے کابینہ سے یہ کہتے ہوئے استعفی دیا کہ معاملات اب معمول پر واپس نہیں آ سکتے۔ان کے بعد کئی دیگر وزرا نے بھی استعفی دیا لیکن اس دوران وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے مکمل خاموشی رہی۔
صرف دو دن قبل تعینات ہونے والے چانسلر ندھیم زہاوی نے بھی وزیر اعظم کو استعفی دینے کا مشورہ دیا جبکہ اس کے کچھ ہی دیر بعد حال ہی میں تعینات ہونے والی سیکریٹری تعلیم مشیل ڈونیلین نے بھی استعفی دے دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم سے بھی استعفی دینے کی اپیل کرتی ہیں۔اس کے کچھ ہی دیر بعد یہ خبر سامنے آئی کہ بورس جانسن مستعفی ہونے پر رضامند ہو چکے ہیں جو گذشتہ رات تک ڈٹے ہوئے تھے۔