جاپان کے سابق وزیراعظم قاتلانہ حملے میں ہلاک

Former Japanese prime minister Shinzo Abe lies on the ground after apparent shooting during an election campaign for the July 10, 2022 Upper House election, in Nara, western Japan July 8, 2022. in this photo taken by Kyodo. Mandatory credit Kyodo via REUTERS ATTENTION EDITORS – THIS IMAGE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY. MANDATORY CREDIT. JAPAN OUT. NO COMMERCIAL OR EDITORIAL SALES IN JAPAN.

ٹوکیو: جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو ایبے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو صبح جاپان کے نارا شہر میں ریلی سے خطاب کے دوران شنزو ایبے پر نامعلوم شخص نے فائرنگ کی تھی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے، تاہم اسپتال میں دوران علاج وہ جاں بر نہ ہو سکے۔
جاپانی میڈیا کے مطابق سابق وزیر اعظم کو قریب سے 2 گولیاں ماری گئیں، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سینے میں لگنے والی گولی شنزو ایبے کی موت کی وجہ بنی۔ رپورٹس کے مطابق شنزو ایبے کو گھر میں تیار کردہ بندوق سے مارا گیا ہے۔
واقعے کی تصاویر بھی منظر عام پر آ چکی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شنزو ایبے کے سینے سے خون بہہ رہا ہے، ایک تصویر میں مبینہ قاتل کو بھی پکڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔
عالمی سربراہان کی جانب سے سابق جاپانی وزیر اعظم کے قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے، 67 سالہ شنزو ایبے نے صحت کی خرابی کی وجہ سے 2 سال قبل وزارت عظمی سے استعفی دیا تھا۔
شنزو ایبے سب سے زیادہ عرصے تک جاپان کے وزیر اعظم رہے، جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا نے رد عمل میں کہا کہ سابق وزیر اعظم پر حملہ وحشیانہ اور بد نیتی پر مبنی ہے، ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
شنزو ایبے کے قتل پر امریکا، چین، بھارت، مالدیپ، اور آسٹریلیا کی جانب سے بھی مذمت کی گئی ہے۔