فل کورٹ پیچیدہ کیسز میں بنائے جاتے ہیں، یہ کیس پیچیدہ نہیں، جسٹس عمر عطابندیال

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ پر حکومتی اتحادیوں کی فوری فل کورٹ بنانے کی استدعا پر چیف جسٹس کو قائل نہ کیا جاسکا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فل کورٹ پیچیدہ کیسز میں بنائے جاتے ہیں، یہ کیس پیچیدہ نہیں۔
پیر کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ دن بھر دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر کے رولنگ کیخلاف فل کورٹ بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا۔
فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد
وقفے کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومتی اتحادیوں اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے فل کورٹ بنانے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تین رکنی بنچ ہی سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کیس کو میرٹ پر سنیں گے، ہم نے معاملہ کا جائزہ لیا ہے، چودھری شجاعت اور پیپلز پارٹی کے فریق بننے کی درخواستیں منظور کرتے ہیں۔ آگے چل کر دیکھیں گے فل کورٹ بنچ کا کیا کرنا ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے یہ ہی احکامات ہیں، معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے۔ میں نے استدعا کی فل کورٹ بنچ بنانے سے عدالتی تکریم میں اضافہ ہو گا۔ اگر نظر ثانی منظور ہوئی تو بات پہلے والی صورتحال پر چلی جائے گی۔
معاملہ تجاوز کا ہوا تو ممکن ہے معاملہ فل کورٹ میں جائے: چیف جسٹس
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آئین کو دیکھنا ہے۔ آرٹیکل 63 اے کا طویل سفر ہے، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے وزیر اعظم کو گھر بھیجا، آپ نے پہلے کبھی بنچ پر اعتراض نہیں کیا۔ اس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم معذرت کرتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ معذرت نہیں کرتے آپ مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔ اس عدالت نے ضمیر کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے، اگر یہ معاملہ تجاوز کا ہوا تو ممکن ہے فل کورٹ میں جائے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ووٹ کے نہ گننے کی تشریح درست نہیں کے نتیجے پر رن اف الیکشن ہی ختم ہوجائے گا، 12 کروڑ کے وزیراعلی کا مسئلہ ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ قانونی سوال پر آپ تیاری کرلیں۔ اس پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے وکیل نے کہا کہ اگر آپ نے سننا ہے تو سب کو موقع دیں، میں نے تحریری جواب تیار کیا ہے، اتنا وقت تو دیں مقدمہ کہ تیاری کر سکیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ابھی ہم مزید فریقین کو سننا چاہتے ہیں، آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں آپ کے کہنے پر ابھی فل کورٹ بنا دیں۔ آپ شاید چاہتے ہیں آپ کے کہنے پر فل کورٹ بنا دیں تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں، میرٹ پر دلائل سن کر فیصلہ کریں گے فل کورٹ بنانی ہے یا نہیں۔اسی دوران عرفان قادر نے کہا کہ مجھے اپنے موکل سے ہدایات لینے کا وقت دیا جائے۔ میرٹ پر دلائل دینے کے لیے وقت درکار ہوگا، ہمارے تمام دلائل فل کورٹ سے متعلق ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اس سوال کا جواب دے چکے ہیں پارٹی سربراہ ہدایات دے سکتا ہے، کیس میں لمبا کرنے کی کوئی بات نہیں ہے، عدم اعتماد والے کیس میں عدالت نے سوموٹو لیا تھا، موجودہ کیس میں کوئی سوموٹو نہیں لیا، آپ کے ہر لفظ کو سنا جائے گا، ہم نے وکیل منصور عثمان کو تفصیلی سنا ہے، لمبے سفر کے بعد 63 اے بنی ہے، استدعا ہے فل کورٹ سے عدالت کی توقیر میں اضافہ ہوگا، وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے فیصلے پر آپ نے مٹھائیاں بانٹی۔
عرفان قادر نے کہا کہ میرے دلائل فل کورٹ کی تشکیل پر ہے، آپکی اجازت سے بات کرونگا، اگر فل کورٹ پر عدالت نہیں سننا چاہتی تو میں چلا جاتا ہوں، جب وہی جج صاحبان بنچ میں آتے تو تاثر ملتا ہے، ججز کی ساکھ پر میرا کوئی سوال نہیں ہے، ابھی تک کوشش کررہے ہیں قانون سوالات طے کرلئے جائیں، علی ظفر نے بھی تسلیم کیا کوئی آئینی سوال شامل ہی نہیں، ساڑھے گیارہ بجے اپ نے حکم دیا میرے پاس تو پیپر بک بھی نہیں تھی، میں نے پہلی سماعت پر بھی کوشش کی عدالت کی معاونت نہ دوں، اپ نے سابقہ سماعت کے حکم میں لکھ دیا میری تیاری نہیں، ڈپٹی سپیکر کا جواب بھی ساتھ لایا ہوں آخری گزارش ہے بہتر معاونت کیلئے ٹائم دیا جائے۔ عدالتی فیصلے کی روشنی میں ہی وزیراعلی کا دوبارہ الیکشن ہوا، منحرف ارکان کے ووٹ اگر مسترد کرنے کا فیصلہ بدل گیا تو دوبارہ پولنگ کی ضرورت نہیں ہوگی، کیس کی بنیاد ہی عدالتی فیصلہ ہے جس کی نظرثانی پر پہلے فیصلہ ضروری ہے، یہ سپریم کورٹ جتنی اپکو عزیز ہے اتنی ہی مجھے عزیز ہے، ہم آئے ہیں چلے جائیں گے ادارے موجود رہیں گے۔
دیکھنا ہے کیا سپریم کورٹ کے پہلے فیصلوں سے کوئی تضاد ہے: جسٹس عمر عطا بندیال
چیف جسٹس نے کہا کہ میرٹس پر ہمارے سامنے سوال تھا پارٹی ہیڈ ہدایات دے سکتے ہے یا نہیں، منصور عثمان کا موقف ہے سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں فل کورٹ تشکیل دیا جائے، یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں، سپریم کورٹ کا پہلا فیصلہ آچکا ہے، دیکھنا ہے کیا سپریم کورٹ کے پہلے فیصلوں سے کوئی تضاد ہے، دیگر وکلا نے کیس تیار کیا ہوا انکو سن لیں گے، ہمارے ملک میں حکومت بڑا ایشو ہے، ائین کے شرائط کو کئی دفعہ نظر انداز کیا جاتا ہے، وفاقی حکومت کے کیس میں ہم نے از خود نوٹس لیا، دن اور شام کو سن کر چار روز میں فیصلہ کیا، اس کیس پر تو از خود نوٹس بھی نہیں لیا۔
فاروق ایچ نائیک
سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت کیس کو جمعرات کی صبح تک ملتوی کر دے، جمعرات کی صبح سے شام تک کیس کو مکمل کر لیا جائے، کیس کو ملتوی کیا جائے تاکہ ماحول کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ماحول گرم ہے، میرے خیال سے تو آج بھی ماحول گرم نہیں، جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا تھا انہیں وقفے کے دوران پڑھا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے فارق ایچ نائیک کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ چلیں آپ اپنی درخواست پر دلائل دیں۔
فاروق نائیک نے کہا کہ درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے پر دلائل دوں گا، اسی دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آپ وزیرقانون، پارلیمان کے رکن اور بار کے صدر بھی رہے ہیں، عہدہ سنبھالا تو 54 ہزار کیسز زیر التوا تھے آج 51 ہزار تک آ گئے، کوشش ہے کہ چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے کیسز 50 ہزار سے کم ہوجائیں۔
اس پر پیپلز پارٹی کے وکیل نے کہا کہ درخواست ہے کل صبح فریش مائنڈ کے ساتھ یہ کیس سن لیں، کل پر امن ماحول میں سماعت ہو پائے گی، کیا ابھی ماحول چارجڈ ہے؟ کیا آپکو ماحول گرم لگ رہا ہے؟ چیف جسٹس اسی دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم پرسکون بیٹھے ہیں، آپ دلائل دیں۔
فل کورٹ بن جائے تو دیگر مقدمات کو وقت نہیں مل سکتا، جسٹس عمر عطا بندیال
چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بن جائے تو دیگر مقدمات کو وقت نہیں مل سکتا، کیسز کے بوجھ میں کمی ڈسپلن کی وجہ سے آئی ہے، آج سوشل میڈیا حقائق کے بجائے تاثر کو دیکھتا ہے مگر ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے، اس کیس میں پارلیمانی پارٹی کی کوئی ہدایات نہیں، ہم نے دیکھنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اختیار پر پارٹی سربراہ نے تجاویز کیا، یہ دیکھنا ہے پارلیمانی پارٹی کو پارٹی سربراہ چلاتا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمان کے مسئلے عدالت میں نہیں آنے چاہئیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ غیر قانونی اقدام کرے گا تو عدالت مداخلت کرے گی، موجودہ کیس میں سوال بس یہ ہے پارلیمانی پارٹی کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں تھیں، بات پارٹی سربراہ کی تھی، یہ کوئی بہت مشکل کیس نہیں ہے، ہمیں صرف مزید ٹھوس آئینی دلیل چاہیے پارٹی ہیڈ کی ہدایات پر عمل کرنا ہوتا ہے، آپ نے اپنے دور میں اٹھارویں ترمیم کر کے پارلیمانی پارٹی کو اختیار دیا، بورس جانسن کو پارلیمانی پارٹی نے ووٹ دیا، عدم اعتماد تک بات ہی نہیں گئی، ہم نے جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے، اگر پارلیمنٹ غیر قانونی اقدام کرے گا تو عدالت مداخلت کرے گی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ عدالت کو فل کورٹ بنانے کیلئے آئینی نکات درکار ہیں، آپ کے ساتھی نے کہا تھا پارٹی سربراہ آمر بن کر لوگوں کا کیریئر تباہ کر دیتا ہے، اٹھارہویں ترمیم میں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنا کر احسن قدم اٹھایا گیا، پارلیمان اور اداروں کو مضبوط کرنا ہے، اس بات کا کوئی ڈر نہیں سچ بولنے پر کوئی کیا کہے گا، اسمبلی کارروائی کو استثنی صرف کارروائی کے طریقہ کار پر ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے وکیل صلاح الدین نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کا ایک منشور ہوتا ہے، تھرڈ ورلڈ ممالک میں پارٹی سربراہ کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہے، پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔
اس پر چودھری شجاعت کے وکیل نے کہا کہ عدالت عظمی کے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں پارٹی سربراہ کو ہدایت کا اختیار ہے، ایم پی ایز اور ڈپٹی سپیکر کو بھیجے خطوط کا ریکارڈ جمع کرائوں گا، کچھ ایسے factual سوالات ہیں جو عدالت میں اٹھائے گئے ان کا جواب دینا ضروری ہے، اس میں پارلیمنٹری پارٹی کی ڈائریکشن کا معاملہ ہے کون کیسے یہ ڈائریکشن دے سکتا ہے، ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ اور پارٹی کا ہوتا ہے، کئی جماعتیں کہتی ہیں کاغذوں میں نام کسی کا بھی ہو ہمارا قائد فلاں لیڈر ہے، اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے، قائد کوئی بھی ہو، کسی جماعت کا ایک سینیٹر ہو تو وہ کس پارلیمانی پارٹی سے ہدایت لے گا؟ فل کورٹ کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ بار بار فل کورٹ کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟ آپ آٹھ ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تو 9 ججز بھی سماعت کر سکتے، آپ 21 ویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، 21 ویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا یہ دیکھیں، بنچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے۔
اسی دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اپریل سے ایک بحران چلا آ رہا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں یہ تنازعہ چلتا رہے، ہم ریاست کے اتنے معاملات کو لمبا کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ دو ماہ پہلے عدالت نے ایک فیصلہ دیا جو سب پر ماننا لازم ہے، ہو سکتا ہے ہمارا فیصلہ غلط ہو لیکن ابھی تک فیصلہ پر نظر ثانی نہیں ہوئی، نظر ثانی درخواستیں زیر التوا ہیں، توقع نہیں تھی اسمبلی بحال ہونے کے بعد نئی اپوزیشن واک آٹ کر دے گی، عدالت نے نیک نیتی سے فیصلہ کیا تھا، اپریل 2022 سے آج بحران بڑھتا ہی جا رہا ہے، آپ شاید چاہتے ہیں یہ بحران مزید طول ہو، فل کورٹ ستمبر میں ہی بن سکے گی، کیا تب تک سب کام روک دیں؟ ریاست کے اہم ترین معاملات کو اس لیے لٹکا نہیں سکتے آپ کی خواہش ہے، آئینی اور عوامی مفاد کے مقدمات کو لٹکانا نہیں چاہیے، ہر شہری کی طرح معیشت کی صورتحال سے ہم بھی پریشان ہیں، کیا معیشت کا یہ حال عدالت کی وجہ سے ہے یا عدم استحکام کی وجہ سے؟ آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور کم لینے والا وزیراعلی ہے، حمزہ شہباز کو وزیراعلی برقرار رکھنے کیلئے ٹھوس بنیاد درکار ہے، ریاست کے کام چلتے رہنے چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر شہری کی طرح معیشت کی صورتحال سے ہم بھی پریشان ہیں، کیا معیشت کا یہ حال عدالت کی وجہ سے ہے یا عدم استحکام کی وجہ سے؟ آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور کم لینے والا وزیراعلی ہے، حمزہ شہباز کو وزیراعلی برقرار رکھنے کیلئے ٹھوس بنیاد درکار ہے، ریاست کے کام چلتے رہنے چاہیے۔ حمزہ شہباز کا الیکشن غلط قرار دیا، ہم نے حمزہ شہباز کو یکم جولائی کو وزارت اعلی سے نہیں ہٹایا، وزیراعلی کے الیکشن سے پہلے بھی فریقین کو بلا کر متفق کیا تھا، حمزہ کو ضمنی الیکشن تک بطور وزیراعلی برقرار رکھا تھا، انہوں نے پرامن اور بہترین ضمنی الیکشن میں کردار ادا کیا، اب وزیراعلی کے الیکشن کا جو نتیجہ آیا اس کا احترام کرنا چاہیے، عدالت کے فیصلے پر انتخابات ہوئے اور پر امن طریقے سے ہوئے، ہمیں یہ ڈھونڈ کر دے دیں کہ کہاں لکھا ہے کہ پارٹی ہیڈ غیر منتخب بھی ہو تو اس کی بات ماننا ہوتی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اج جس شخص نے 186 کے مقابلے میں 179 ووٹ لئے وزیراعلی ہے، ایسے وزیراعلی کو جاری رکھنے کیلئے ٹھوس قانون وجوہات چاہئے، ہم یکم جولائی کو فیصلہ دیتے ہوئے بھی موجود وزیراعلی کو کام سے نہیں روکا تھا، الیکشن کے نتائج کا احترام ہونا چاہیے، آپ کہہ رہے ہیں پارٹی ہیڈ کا کنٹرول ہوتا ہے، آپ خود سے سوال سے پوچھیں آئین کے مطابق کس نے ہدایات دینی ہیں۔
اس سے قبل سماعت کے آغاز میں عدالت نے سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں بار کے کافی صدور یہاں موجود ہیں۔
اس پر لطیف آفریدی نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی نظرثانی درخواستیں زیرالتوا ہیں، موجودہ سیاسی صورتحال بہت گھمبیر ہے، سپریم کورٹ ایک آئینی عدالت ہے، ہمارے سابق صدور نے میٹنگ کی ہے۔ سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست بھی زیرالتوا ہے، دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیکر تمام مقدمات کو یکجا کرکے سنا جائے۔
اسی دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس کا براہ راست تعلق ہمارے فیصلے سے ہے، ہم چاہیں گے فریقین ہماری رہنمائی کریں۔ تاہم علی ظفر نے سابق صدور سپریم کورٹ بار کے مطالبے پراعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔
لطیف آفریدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی زیر التوا ہیں، آئینی بحران سے گریز کیلیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔ بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں، پورا سسٹم دا پر لگا ہوا ہے، سسٹم کا حصہ عدلیہ اور پارلیمان بھی ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر نے بھی دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت سے فل بنچ بنانے کی استدعا کی تو عدالت نے استفسار کیا کہ کن نکات پر فل کورٹ سماعت کرے۔ آئین کی دفعہ 63 اے کے حوالے سے آپ اپنے حکم نامے کا پیرا گراف نمبر 1 اور 2 پڑھ لیں جس سے سب باتیں کلیئر ہوجائیں گی۔ صدر مملکت نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا ریفرنس بھیجا، آرٹیکل 63 اے کو الگ کر کے نہیں پڑھا جاسکتا، سیاسی جماعت کو ہدایات پارٹی سربراہ دیتا ہے، پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ہے۔ سیاسی جماعتوں کی کمزوری سے جمہوری نظام خطرے میں آسکتا ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف نظام کے لیے کینسر کے مترادف ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو ارکان اسمبلی میں موجود ہوتے ہیں صرف وہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں، سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے، کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایات ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟
دوران سماعت وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ میں نے اپنا جواب عدالت میں جمع کروا دیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں ہمارے فیصلے کے کس حصے کا حوالہ دیا، ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے جس پیراگراف پر انحصار کیا وہ کہاں ہے؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئین ڈائریکشن اور ڈیکلریشن پر واضح ہے، پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کا کردار الگ الگ ہے۔جسٹس منیب اختر نے وکیل سے کہا کہ جو نقطہ آپ اٹھانا چاہ رہے ہیں وہ ہم سمجھ چکے ہیں، مناسب ہوگا اب کسی اور وکیل کو موقع دیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہدایت اور ڈیکلریشن دو الگ الگ چیزیں ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے عدالتی فیصلے کے جس نقطے کا حوالہ دیا وہ بتائیں۔حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ مسترد ہوجائے گا، یہء نقطہ ہے۔



