تین رکنی بنچ نے فل کورٹ کی استدعا مسترد کی تو پی ڈی ایم اتحاد نے تین رکنی بنچ کو ہی مسترد کر دیاترازو ٹھیک ہو گا تو پاکستان خود بخود ٹھیک ہو جائے گامریم نواز
حکومتی اتحادی اور ملک بھر کے وکلاء ایک پیج پر آگئے لیکن چیف جسٹس نے انا نہ چھوڑی
عدالت نے عدلیہ کا وقار دائو پر لگا دیا لیکن فل کورٹ کے حوالے سے کسی درخواست کو در خور اعتناء نہ سمجھا
عدالت نے فل کورٹ کا مطالبہ مسترد کیا تو پی ڈی ایم اتحاد نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کو ہی مسترد کر دیا

اسلام آباد:ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں چیف جسٹس نے اپنا اور عدلیہ کا وقار دائو پر لگا دیا لیکن فل کورٹ کے حوالے سے کسی درخواست کو در خور اعتناء نہ سمجھا ۔پیر کو دن کے آغاز پر ہی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں عدالت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب اسمبلی ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس بہت اہم ہے اس پر ملک کے مستقبل کا دارومدار ہے ہم استدعا کرتے ہیں کہ اس کے لئے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔ لیکن عدالت نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا جس کے جواب میں پی ڈی ایم اتحاد نے تین رکنی بنچ کو مسترد کر دیا اور یہ اعلان کیا کہ ہم اس کیس میں اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے اور اسے مسترد کرتے ہیں ۔
مریم نواز کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ ہمارا فل کورٹ کامطالبہ نہیں مانا جائے گا
اس حوالے سے تین رکنی بنچ نے جب دن ایک بجے کیس کی سماعت کی تو پاکستان بار کونسل کے لطیف آفریدی نے استدعا کی کہ ملک بھر کے وکلاء چاہتے ہیں کہ یہ اہم معاملہ ہے اس پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے ۔
سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون اور دیگر چھ سابق صدور نے بھی عدالت سے مطالبہ کیا کہ ا س حوالے سے فل کورٹ بنایا جائے ۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک ، حمزہ شہباز کے وکلاء چوھدری شجاعت کے وکیل اور دیگر وکلاء نے بھی اس حوالے سے فل بنچ بنانے کی استدعا کی لیکن عدالت نے اس حوالے سے کسی درخواست کو درخور اعتناء نہ سمجھا ۔چیف جسٹس لیت و لعل سے کام لیتے رہے اور اس حوالے سے ان کا موقف بدلتا رہا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی پیچیدہ کیس نہیں ہے کہ اس کے لئے فل کورٹ بنایا جائے۔ایک بار ان کا کہنا تھا کہ پانچ کے علاوہ دیگر جج موجود نہیں ہیں فل کورٹ کیسے تشکیل دے سکتے ہیں ۔ اس موقع پر کئی سیاسی رہنمائوں کے وکلانے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے ججز کو اینگیج کیا سکتا ہے بعد میں رات 9 بجے عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے فل کورٹ کا مطالبہ مسترد کر تے ہوئے قراردیا کہ منگل کو یہی بنچ دن ساڑھے گیارہ بجے اس کیس کی دوبارہ سماعت کر ے گا۔ لیکن وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیوں مسترد کیا گیا ہے۔
جس پر رات گئے پی ڈی ایم اتحاد نے تین رکنی عدالتی بنچ کو ہی مسترد کر دیا۔



